امریکی صدر براک اوباما جمعرات ایشیا کے اپنے پہلے دورے پر روانہ ہورہے ہیں جس میں معیشت اور چین کے ساتھ تجارت میں بڑھتا ہوا خسارہ ان کے ایجنڈے میں سر فہرست ہے۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہےکہ صدر اوباما اپنے طیارے میں سوار ہونے سے پہلے ملازمتوں کے نئے مواقعوں اور معاشی ترقی کے حوالے سے بیان دیں گے۔
صدر اوباما کے اس نو روزہ دورے کاآغاز ٹوکیو جاپان سے ہوگا اور جس میں ایشیا پیسفک اکنامک کوآپریشن سربراہ کانفرنس کے لیے سنگاپور میں ان کا قیام بھی شامل ہے۔ اس کے بعد وہ شنگھائی، بیجنگ اور سیؤل جائیں گے۔
مسٹر اوباما کہہ چکے ہیں کہ جب وہ چین جائیں تو وہ ان کی کرنسی کی قدر کے دوبارہ تعین کے ساتھ ساتھ چینی صارفین کی اپنے اخراجات میں اضافے کی حوصلہ افزائی کے موضوع پر بھی گفتگو کریں گے۔ وہ چین سے اپنی مارکیٹیں امریکی مصنوعات کے لیے کھولنے کا بھی کہیں گے۔
صدر اواباما نے کہا ہے کہ ان کے چین کے دورے میں آب وہوا کی تبدیلی اورانسانی حقوق بھی ایجنڈے پر ہوں گے۔

