امریکی صدر باراک اوباما نے کہاہے کہ اگر ایران یہ ظاہر کرنے میں ناکام ہوگیا کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن اور شفاف ہے تو اسے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

منگل کے روز بیجنگ میں صدر اوباما نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ امریکہ اور چین اس بارے میں متفق ہیں کہ ایران کوبین الاقوامی برادری کے سامنے اپنے پرامن ارادوں کی یقین دہانی کرانی چاہیے۔

چین اور امریکہ ان چھ عالمی طاقتوں میں شامل ہیں جو ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے کے لیے بات چیت کررہی ہیں۔

اتوار کے روز مسٹر اوباما نے کہا کہ ایران کے پاس اپنی کم تر سطح کی افزودہ یورینیم کو مزید افزودگی کے لیے روس بھیجنے سے متعلق اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ تجویز پر کسی ردعمل کے اظہار کے لیے اب بہت کم وقت باقی بچا ہے۔

بھارتی میڈیا کی خبروں میں ایرانی وزیر خارجہ منو چہر متکی کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ تہران اس وقت تک اس منصوبے کو اس صورت میں ایک مثبت نگاہ سے دیکھے گا جب یورینیم کا تبادلہ ملک کے اندر ہو۔

مسٹر متکی سے یہ بیان منسوب کیا گیا ہے کہ ایران اپنے جوہری  ری ایکٹر کے لیے ایندھن  وصول کرنے سے پہلے اپنا جوہری  ایندھن  بیرون ملک بھیجنے کے لیے تیار نہیں ہے۔