امریکہ کے صدر باراک اوباما اور جنوبی کوریا کے صدر لی میونگ باک نے کہا ہے کہ جوہری ہتھیاروں سے مسلح شمالی کوریا کے بارے میں  اُن کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جارہا ہے۔

تاہم اُنہوں نے جمعرات کے روز سول میں ایک  مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ اگر پیانگ یانگ اپنے جوہری ہتھیاروں سے دست برادر ہوجائے  تو وہ اُسے  اقتصادی امداد فراہم کریں گے۔

مسٹر اوباما نے اعلان کیا ہے کہ وہ  شمالی کوریا کو دوبارہ بین الاقوامی مذاکرات میں  شمولیت پر آمادہ کرنے کی کسی کوشش کے لیے آٹھ دسمبر کو ایک ایلچی کو شمالی کوریا بھیج رہے ہیں۔ 

مسٹر اوباما نے کہا  ہے کہ اگر شمالی کوریا  جوہری اسلحہ ترک کرنے کے معاملے میں سنجیدہ ہے تو  اُس کے خلاف پابندیوں میں بتدریج کمی کے ساتھ ساتھ  وہ مکمل طور پر بین الاقوامی برادری کا حصّہ بن سکتا ہے۔

مسٹر اوباما اور مسٹر لی نے اپنے ملکوں کے درمیان تجارت  کے مسائل پر بھی غور کیا  اور اُس سودے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا وعدہ  کیا جو  دونوں ملکوں میں پارلیمانی منظوری کا منتظر ہے۔

مسٹر اوباما نے جنوبی کوریا سے روانہ ہونے سے پہلے اوسان میں امریکہ کے فوجی اڈے پر اُس ملک میں تعینات لگ بھگ 28 ہزار امریکی فوجیوں سے ملاقات کی۔ 

جنوبی کوریا،  مسٹر اوباما کے ایشیا کے اوّلین دورے کی آخری منزل تھا۔   وہ اس دورے میں جاپان،  سنگا پور اور چین بھی گئے تھے۔