امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ  وہ اگلے سال انڈونیشیا جانے کے منتظر ہیں، جہاں انہوں نے اپنا بچپن کا کچھ وقت گزارا تھا۔


مسٹر اوباما نے اتوار کے روز  سنگاپور میں جنوب مشرقی ایشیائى ملکوں کی انجمن یا آسیان کی ایک سربراہی کانفرنس کے حاشیے پر  انڈونیشیا کے صدر سُسلیو  بام بانگ یُدھ یونو  سے ملاقات کی۔


45 منٹ کی ملاقات کے بعد، مسٹر اوباما نے کہا ہے کہ  انہوں نے اور مسٹر یدھ یونو نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو مزید فروغ دینے کے طریقوں پر غور کیا ہے۔


صدر یدھ یونو نے کہا ہے کہ مسٹر اوباما انڈونیشیا کے دوست ہیں اور وہ اس ملک کو اچھی طرح جانتے ہیں۔  انہوں اسلامی دنیا کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھانے سمیت،  بین الاقوامی مسائل کے بارے  میں صدر اوباما کی، جیسا کہ انہوں نے کہا  تازہ بتازہ  سوچ کی تغریف کی۔


مسٹر اوباما کے دورہِ انڈونیشیا کی ابھی تاریخ طے نہیں کی گئى۔ جو کہ دنیا میں مسلمانوں کی سب سے بڑی آبادی والا ملک ہے۔   تاہم انہوں نے کہا ہے کہ وہ خاتون اول مشیل اوباما اور اپنی بیٹیوں مالیہ اور ساشا کے ساتھ وہاں جائیں  گے۔


مسٹر اوباما نے کہا کہ وہ اپنے خاندان کو  وہ مقامات دکھانا چاہتے ہیں جہاں انہوں نے اپنے بچپن کا کچھ وقت گذارا تھا۔  مسٹر اوباما جب نوعمر لڑکے تھے توان کی  والدہ نے ایک انڈونیشی باشندے سے شادی کی تھی۔  اس کے بعد انہوں نے کچھ وقت جکارتا میں گذاراتھا ۔