پاکستانی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہےکہ افغانستان کے صدر حامد کرزئی کے دوسری مدت کے لیے انتخابات کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دونوں ملکوں کے درمیان موثر تعاون کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ صدر کرزئی اپنے طرزحکومت میں کس حد تک تبدیلیاں لاتے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں ممتاز تجزیہ نگار پروفیسر رسول بخش رئیس نے کہا کہ گذشتہ پانچ سالوں کے دوران کرزئی حکومت کی کارکردگی نہایت مایوس کن رہی ہے۔

ان کے بقول حکومت کے وارلارڈز کے ساتھ مبینہ روابط، منشیات کی کاشت اور پھیلاؤ کو روکنے میں ناکامی اور بدعنوانی وہ مسائل ہیں جنہوں نے نہ صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ کو متاثر کیا ہے بلکہ پاکستان کے لیے اس کی سلامتی کے حوالے سے بھی مسائل کو جنم دیا ہے۔

انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ افغان صدر کی حکومت اپنی ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرتے ہوئے ایک ایسا مضبوط اور موثرنظام حکومت قائم کرے گی جو طالبان کی طاقت کو کچلنے میں کامیاب ثابت ہوگا۔

اس سوال پر کہ افغان صدر کی حلف برداری کی تقریب میں پاکستانی صدر کی شرکت کیا معنی رکھتی ہے پروفیسر رئیس کا کہنا تھا کہ یہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ پاکستان ایک پرامن اور مستحکم افغانستان کو کس قدر زیادہ اہمیت دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک مستحکم افغانستان ہی پاکستان کے مفاد میں ہے کیوں کہ اگر وہاں بدامنی اور انتشار ہوگا تو اس کے اثرات سرحد پر لازمی محسوس کیے جائیں گے اور رسول بخش رئیس کے مطابق یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کابل کے ساتھ ایک قریبی تعاون قائم رکھتے ہوئے اسے امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کی لیے ہر ممکن مدد فراہم کرنا چاہے گا۔

اپنی حلف برداری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوے خود صدر کرزئی نے بھی کہا تھا کی اس موقع پر ان کے پاکستانی ہم منصب کی موجودگی دونوں ملکوں کے درمیان دوستی اور بھائی چارے کا مظہر ہے اور صدر زرداری کی آمد ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے عزم کی غمازی کرتی آئی ہے۔

افغان صدر کے گذشتہ پانچ سالہ دور حکومت کے دوران پاکستان اور افغانستان کے درمیان مختلف موقعوں پر الفاظ کی جنگ ہوتی رہی ہے اور دونوں ہی ایک دوسرے پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ناکافی اور غیر موثر اقدمات کرنے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔