بین الاقوامی تنظیم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اپنی سالانہ جائزہ رپورٹ میں الزام لگایا ہے کہ پاکستان میں گذشتہ ایک سال کے دوران بدعنوانی میں اضافہ ہوا ہے اوراس حوالے سے ترتیب دی گئی فہرست میں یہ پانچ درجے نیچے آکر دنیا کا 42 واں بدعنوان ترین ملک بن گیا ہے۔

تنظیم کے پاکستان میں نمائندے سید عادل گیلانی نے وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں کہا کہ 2008 میں 180 ممالک میں بدعنوانی کے اعتبار سے پاکستان کا 47 واں نمبرتھا۔

تنظیم کے جائزے کے مطابق ملک میں بدعنوانی میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں مبینہ طور پر میرٹ کی پاسداری نہ کرنا، قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی، اختیارات کا غلط استعمال اور نااہل افراد کو نوازنے کے لیے اہم عہدوں کی سربراہی دینا شامل ہے۔  عادل گیلانی کا کہنا ہے کہ متنازعہ قومی مصالحتی آرڈیننس یا این آر او، جس کے تحت بدعنوانی میں ملوث افراد کو معافی دی گئی، اس نے بھی ملک میں بدعنوانی کی حوصلہ افزائی کی۔

حکمران پیپلز پارٹی کے ایک مرکزی رہنما اور وفاقی کابینہ کے رکن میاں منظور وٹو نے تنظیم کی رپورٹ کو قیاس آرائیوں پر مبنی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔  انھوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ایسی تنظیمیں ان کے بقول سنی سنائی باتوں پر اپنی رپورٹیں ترتیب دیتی ہیں جو ہرگز حقائق کی نمائندگی نہیں کرتیں۔  وفاقی وزیر نے کہا کی حکومت چلانے والے انسان ہیں فرشتے نہیں اس لیے کچھ لوگوں سے غلطیاں ہو سکتی ہیں۔  لیکن ان کے بقول اس کا یہ مطلب نہیں کہ حکومت بدعنوانی کو فروغ دے رہی ہے یا پھر ہر کوئی بدعنوان ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے عادل گیلانی  نے بھی اعتراف کیا کہ پاکستان میں بدعنوانی میں اضافہ چند سالوں کے دوران نہیں ہوا بلکہ یہ ایک تاریخی مسئلہ ہے جس کی بنیاد ڈالنے میں ان کے بقول کلیدی کردار ان غیر جمہوری قوتوں نے ادا کیا جنہوں نے کبھی بھی ملک میں ایک مستحکم جمہوری نظام قائم نہیں ہونے دیا۔  گیلانی نے اس کی مزید وضاحت نہیں کی لیکن بظاہر ان کا اشارہ فوجی حکمرانوں کی طرف تھا جومختلف ادوار میں منتخب حکومتوں کا تختہ الٹ کر طویل عرصے تک اقتدار پر قابض رہے۔

انھوں نے بتایا کہ پاکستان اور بھارت نوے کے اواخرمیں کرپشن کے اعتبار سے بالترتیب بیسویں اور پندرھویں نمبر پر تھے لیکن بھارت نے اپنے ریکارڈ میں خاطر خواہ بہتری حاصل کی ہے اور اب وہ پچانویں کے درجے پر آ گیا ہے۔