قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل کے چیرمین جمشید دستی نے الزام لگایا ہے کہ حالیہ آئی سی سی کرکٹ چمپینز ٹرافی کے دوران پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف آخری لیگ میچ اور نیوزی لینڈ کے خلاف میچ فکسنگ کھیلے تھے جو اُن کے بقول افسوس اور شرمندگی کاباعث ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیرمین اعجاز بٹ، ٹیم کے کوچ انتخاب عالم اور کپتان یونس خان کو 13اکتوبر کو طلب کر لیا ہے تاکہ اُن سے وضاحت طلب کی جاسکے۔

جمشید دستی نے الزام لگایا کہ اُن کی اطلاع کے مطابق پاکستان ٹیم آسٹریلیا کے خلاف آخری گروپ میچ میں ہارنے کی نیت سے میدان میں اتری، تاکہ بھارت کی ٹیم کو ٹورنامنٹ سے خارج کیا جائے، جو اُن کے بقول، غرور، تکبر اور انتہائی دکھ کی بات ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اُن کی اطلاع کے مطابق پاکستان نے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف سیمی فائنل دونوں میچ فکس کھیلے اور دونوں جان بوجھ کر ہارے گئے۔

جمشید دستی نے کہا کہ قومی اسمبلی پی سی بی کے چیرمین، ٹیم کے کوچ اور کپتان سے نہ صرف جواب طلب کرے گی بلکہ قوم کے سامنے تمام حقائق پیش کیے جائیں گے اور ذمے داروں کو سزا دی جائے گی۔

اِس بار ےمیں جب وائس آف امریکہ نے پاکستان ٹیم کے چیف کوچ انتخاب عالم سے رابطہ کیا تو اُنھوں نے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ انتہائی بد قسمتی ہے کہ اِس طرح کی بات کی جارہی ہے۔  اُن کا کہنا تھا کہ وہ اِس طرح کی کسی بات کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔

انتخاب عالم نے کہا کہ جس طرح پورے ٹورنامنٹ میں پاکستان کھیلا ہے اُس پر ہم پاکستان کو پورے مارکس دیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر سیمی فائنل میں بیس تیس رن ہوتے تو پاکستان یہ میچ بھی جیت جاتا۔

اِس سوال کے جواب میں کہ بھارت نے انگلی میں چوٹ کی وجہ سے اپنےاہم کھلاڑی یوراج سنگھ کو چمپینز ٹرافی سے دست بردار کر لیا تھا تو پھر کپتان یونس خان کو کھیلنے کی اجازت کیوں دی گئی، انتخاب عالم نے کہا فریکچر اور ہیرلائن فریکچر میں بہت بڑا فرق ہے۔

انتخاب نے یا د دلایا کہ جب 1970ء میں وہ ٹیم کے ساتھ انگلستان کے دورے پر گئے اُن کی دو انگلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں لیکن وہ پورا سیزن کھیلے۔

دوسری طرف یونس خان کے کیچ گِرانے پر برہمی پر اُن کا کہنا تھا کیچ تو کسی سے بھی گر سکتا ہے۔ سارا ہی الزام لگا دینا کہ کیچ گرنے سے یہ ہوگیا، میں اِس بات کو نہیں مانتا۔