پاکستان ہاکی ٹیم فرانس میں منعقدہ عالمی کپ کوالی فائنگ ٹورنامنٹ جیتنے کے بعد وطن واپس پہنچ گئی ہے۔


منگل کو نامہ نگاروں سے بات چیت میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری اور پاکستان ٹیم کے منیجر آصف باجوہ نے دعویٰ کیا کہ اب پاکستان ہاکی ٹیم کی کامیابی کا سفر شروع ہو چکا ہے۔

پاکستان ہاکی ٹیم کے فُل بیک سہیل عباس نے کہا کہ کوالی فائنگ ٹورنامنٹ ایک چھوٹا سا مرحلہ تھا جب کہ عالمی کپ کے لیے بہت محنت کرنی پڑے گی۔

دوسری طرف پاکستان ہاکی ٹیم کے سابق اولمپین قمر ابراہیم نے وائس آف امریکہ کو خصوصی گفتگو میں بتایا کہ کوالی فائنگ ٹورنامنٹ میں جیت سے پاکستان کو کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیئے۔

تاہم قمر ابراہیم نے کہا کہ پاکستان ٹیم کا پولینڈ سے ہارنا ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ جو ٹاپ کی تین ٹیمیں ہیں وہ پہلے ہی کوالی فائی کرچکی ہیں، جب کہ گیارہ نمبر پر آنے والی بھارتی ٹیم میزبان کے طور پر کوالی فائی کر چکی ہے، اُس کے بعد پاکستان کا کوالی فائی کرنا کوئی بڑی بات نہیں۔ اِسی طرح کوالی فائنگ ٹورنامنٹ کا عالمی کپ سے مقابلہ نہیں کرسکتے۔

قمر ابراہیم نے کہا کہ سہیل عباس یقینی طور پر ٹیم کے لیےتقویت کا باعث ہیں لیکن جو دوسری جگہیں ہیں ہمیں اُن کو بھی نظر میں رکھنا چاہیئے، تاکہ سہیل عباس کے اوپر بوجھ کم ہو۔اُنھوں نے کہا کہ کھلاڑی سے فرق تو پڑتا ہے لیکن کسی بھی جیت کے پیچھے  ٹیم کے سارے کھلاڑیوں کی کوششیں شامل ہوتی ہیں۔