بھارت نے امریکہ اور چین کے مشترکہ بیان پر ردِِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کے دو ممالک کے باہمی رشتوں کے سلسلے میں تیسرے ملک کا کوئی کردار نہیں ہو سکتا۔

اُس نے یہ بھی کہا ہے کہ بھارت پاکستان کے ساتھ تمام تنازعات کو پر امن اور دوطرفہ مذاکرات سے حل کرنے کے عہد کا پابند ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر براک اوباما کے دورہٴ چین کے آخر میں ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک بھارت پاک رشتوں میں بہتری اور فروغ کی حمایت کرتے ہیں اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے قیام کی کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

اِس پر بھارتی وزارتِ خارجہ کی جانب سے ایک بیان جاری کرکے کہا گیا ہے کہ مشترکہ بیان غیر ضروری ہے اور بھارت شملہ معاہدے کے تحت مذاکرات کا پابند ہے۔

دریں اثنا بھارت میں امریکی سفیر ٹِموتھی روئمر نے ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے بات چیت میں کہا ہے کہ من موہن سنگھ کے دورہٴ امریکہ کے موقع پر براک اوباما سے ممبئی حملوں پر تبادلہٴ خیال کریں گے۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ ہماری انتظامیہ نے بارہا کہا ہے کہ ممبئی حملوں کے مشتبہ سات ملزموں کے خلاف حکومتِ پاکستان کی کارروائی اور اُس کے نتائج دیکھنے کے منتظر ہیں۔

خیال رہے کہ من موہن سنگھ اتوار کے روز امریکہ کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔