قومی مصالحتی آرڈیننس (این آر او)  سے فائدہ اُٹھانے والے 8000سے زائد افراد کی فہرست کے منظرِ عام پر آجانے کے بعد سے حزبِ اختلاف کا یہ مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے کہ جِن  وزرا کا نام اِس فہرست میں شامل ہے وہ عہدوں سے مستعفی ہوں اور عدالتوں میں جاکر اپنی بے گناہی ثابت کریں۔

اِس حوالے سے تحریک ِ انصاف کے چیرمین عمران خان نے اتوار کو لاہور میں ایک اخباری کانفرنس میں کہا کہ اُن کے لیے یہ تسلیم کرنا مشکل ہے کہ جِن لوگوں کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات ہیں حکومت اُن کے خلاف غیر جانبدارانہ انداز میں  کارروائی کر پائے گی۔

عمران خان نے مطالبہ کیا کہ بدعنوانی کے الزامات لگنے والے افراد کے خلاف  مقدمے دائر کرنے کا اعلان کیا جائے۔

اُنھوں نے بدعنوانی کے انسداد کے ادارے، نیب کو آزاد اور مضبوط کرنے کا مطالبہ کیا۔   اُن کے الفاظ میں،  جب تک منصفانہ نظام موجود نہ ہو، احتساب کس طرح  ہو سکتا ہے؟

اُدھر،  وفاقی وزیرِ اطلاعات قمر الزماں کائرہ نے اتوار کو چنیوٹ میں نامہ نگاروں سے گفتگوکرتے ہوئے اپنا موقف دہرایا کہ جِن لوگوں کے مقدمات ختم کیے گئے ہیں اُن میں سے ایک پر بھی جرم ثابت نہیں ہوا تھا،   اور اِن مقدمات کی موجودگی میں پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت 2008ء کے انتخابات میں حصہ لینے کی اہل قرار دی گئی تھی۔

‘صدر آصف علی زرداری یا باقی سارے رفقا جو این آر او سے مستفید ہوئے تھے ، وہ  2008ء میں انتخابات لڑنے کے اہل تھے۔  این آر او ہوتا تو کیا ہوتا؟  عدالتوں میں مقدمات چل رہے ہوتے۔  اب کیا ہوگا؟  عدالتوں میں مقدمات چل جائیں گے۔    بہت اچھا۔  صد بسم اللہ۔  ہم عدالتوں میں جاکے سامنا کرلیں گے۔’

واضح رہے کہ این آر او سے فائدہ اُٹھانے والوں میں صدر آصف علی زرداری کا نام بھی شامل ہے اور وزیرِ قانون کا کہنا ہے کہ جب تک پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین صدر کے عہدے پر فائز ہیں اُن کو ہر قسم کے مقدمے سے استثنیٰ حاصل ہے۔