عسکریت پسندوں کے خلاف کامیاب فوجی کارروائی کے نتیجے میں افغانستان سے ملحق قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی کے حالات میں بتدریج بہتری آرہی ہے۔

ایک طرف متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی جاری ہے جب کہ دوسری طرف لوگ معمول کا کاروبارِ زندگی شروع کر رہے ہیں۔ اِسی طرح علاقے میں بند ہونے والے اسکول بھی دوبارہ کھل رہے ہیں۔

باجوڑ ایجنسی کے تدریس سے وابستہ عہدے دار  حاجی گل رحمٰن نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ 615 سکولوں میں سے زیادہ تر کھل گئے ہیں۔ تاہم  شرحِ حاضری کم ہے جِس کے لیے مقامی حکام، طلبا اور والدین کی حوصلہ افزائی کے لیے مختلف قسم کی مراعات دی جارہی  ہیں۔

اُن کے بقول  سیاسی انتظامیہ فرنیچر مہیہ کرنے کے علاوہ  طالبِ علموں  کی حوصلہ افزائی کے لیے 401پیکٹ بھی تقسیم کر رہی ہے  جِن میں سے ہر پیکٹ میں چھ عدد کاپیاں، دو پینسلیں، ایک شارپنر اور ایک ربڑ شامل ہے۔
سنہ 2007ء کے اواخر اور 2008ء کے اوائل میں باجوڑ ایجنسی کے حالات اُس وقت خراب ہوگئے تھے جب طالبان جنگ جوؤں نے علاقے میں عسکریت پسندانہ کارروائیاں تیز کردی تھیں۔ جواباً  حکام نے گذشتہ سال اگست کے مہینے میں علاقے سے جنگ جوؤں کو نکالنے کے لیے فوجی آپریشن شروع کر دیا تھا۔

کارروائی سے قبل علاقے سے لگ بھگ چار لاکھ افراد نے نقل مکانی کی تھی جِن کی اکثریت اب اپنے اپنے گھروں کو واپس جاچکی ہے۔