ایک فلسطینی عہدے دار نے کہا ہے کہ فلسطینی حکام اقوام متحدہ سے یہ کہنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں کہ وہ اسرائیل کی رضامندی کے بغیر اس کی آزادی کی توثیق کردے۔
فلسطین کےاعلیٰ مذاکرات کار صائب ارکات نے اتوارکے روز اسرائیل کے فوجی ریڈیو سے کہا کہ فلسطینوں کی یہ امید کمزور پڑتی جاری ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات کے ذریعے اپنی خواہشات کی تکمیل کرسکتے ہیں۔ دونوں فریقوں کے درمیان گذشتہ دسمبر سے کوئی مذاکرات نہیں ہوئے ہیں۔
اسرائیلی وزیر دفاع ایہود باراک نے اتوار کے روز اسرائیلی کابینہ کو بتایا کہ مذاکرات دوبارہ شروع کرنا قوم کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسرائیلی اور فلسطینی مذاکرات کے ذریعے کسی معاہدے پر نہ پہنچ سکے تو یہ امکان موجود ہے کہ ایک فلسطینی ریاست کے یک طرفہ اعلامیے کی حمایت میں اضافہ ہوجائے گا۔
مسٹر ارکات نے یہ نہیں بتایا کہ فلسطینی یہ درخواست اقوام متحدہ میں کب لے کرجائیں گے، لیکن انہوں نے صرف یہ کہا کہ وہ ایسا تب ہی کریں گے جب مکمل طورپر تیار ہوں گے ۔

