پشاورکچہری کےمرکزی دروازے پر جمعرات کو ایک خودکش بم حملے میں کم از کم 19 افراد ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ پشاور کے ضلعی رابطہ افسر صاحبزادہ انیس نےبتایا کہ مرنے والوں اور زخمیوں میں پولیس اہلکار اور وکلاء بھی شامل ہیں جن میں کچھ کی حالت تشویش ناک ہے۔
انھوں نے کہا کہ خودکش حملہ آورکچہری میں داخل ہونا چاہتا تھا اور جب ڈیوٹی پر موجود ایک پولیس اہلکار نے اُسے روک کرتلاشی لینا چاہی تواس نےجسم سے بندھے بارود میں دھماکا کردیا۔
اکتوبر کے اوائل سے ملک خاص طور پر پشاور اور اس کےنواحی علاقوں میں ہونے والے بم دھماکوں میں 330 سے زائد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے جنوبی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف جاری فوجی آپریشن کا ردعمل ہیں۔
اسلام آباد میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوے کہا کہ جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن میں عسکریت پسندوں کے کمانڈروں کو یا تو مار دیا گیا ہے اور یا پھر انھیں بھاگنے پر مجبور کردیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان شدت پسندوں نے اپنے ہتھیار ملک میں منتشر کر رکھے ہیں جن کو اب وہ استعمال کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ انھیں یقین ہے کہ حالات جلد معمول پر آ جائیں گے۔
جمعرات کو خودکش بم دھماکے سے چند گھنٹے قبل شمالی وزیرستان میں مبینہ امریکی میزائل حملے میں کم ازکم چار مشتبہ عسکریت پسند ہلا ک اور متعدد زخمی ہونے کی اطلاع ملی تھی۔

