
مشیر خزانہ شوکت ترین نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کا دفاع کرتے ہوئے کہاہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہوتے ہی حکومت پٹرولیم کے نرخ بھی نیچے لے آئے گی۔
جمعے کے روز اسلام آباد میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنے کے باعث پٹرولیم کی قیمتیں بڑھانا ناگزیر ہوگیا تھا۔ مشیر خزانہ نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ اس کے نتیجے میں مہنگائی میں کسی حد تک اضافہ ہوگا جس کے اثرات عوام کو برداشت کرنے پڑیں گے ۔
شوکت ترین نے کہاکہ حکومت کے پاس دوسرا راستہ یہ تھا کہ وہ پٹرولیم کی قیمتیں بڑھانے کے بجائے عوام کو سبسڈی دیتی لیکن ان کے مطابق ایساکرنے سے مالی خسارہ پیدا ہوتا جسے پورا کرنے کے لیے حکومت کو مزید قرضہ لینا پڑتا اور یوں افراط زر میں اضافہ ہونے سے بوجھ بالآخر عوام پر ہی پڑتا۔مشیر خزانہ کا کہنا ہے تھا کہ اگر پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے سے عوام پر بوجھ پڑ رہا ہے تو دوسری طرف حکومت نے گیس کے نرخوں میں دو فیصد کمی کرکے کسی حد تک عوام کو ریلیف بھی دیا ہے۔
خیال رہے کہ رواں مالی سال کے بجٹ میں پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی جگہ کاربن ٹیکس عائد کرتے ہوئے پٹرولیم، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں تقریباً چھ سے آٹھ روپے کا اضافہ کیا گیاہے۔اس اضافے پر عوام میں شدید ردعمل پایا جاتا ہے جن کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی بڑھتی ہوئی مہنگائی سے پریشان ہیں اور اب پٹرولیم کی قیمتیں بڑھنے سے ان کی مشکلات بہت بڑھ جائیں گی۔
شوکت ترین کی وضاحت اپنی جگہ لیکن ناقدین کا خیال ہے کہ حکومت نے کاربن ٹیکس عائد کرتے ہوئے عوام پر اس کے دورس اثرات کو مدنظر نہیں رکھا اور عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ گزشتہ سال طے پانے والی ڈیل کے تحت سارا بوجھ عوام تک منتقل کردیا۔ ناقدین کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے سے ضروری استعمال کی کئی اشیاء کے نرخ بڑھ جائیں گے جس کے باعث عوام کو سخت مشکل کا سامنا ہوگا۔
دریں اثناء عالمی مالیاتی ادارے یعنی IMFکے مشن اور پاکستانی حکام کے درمیان اس ہفتے ترکی کے شہر استنبول میں ملاقات ہورہی ہے۔ IMFکے ایک سینئر عہدیدارکے مطابق ملاقات میں ادارے کی طرف سے دیے جانے والے 7.6ارب ڈالر قرضے کے تحت پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔
خیال رہے کہ پاکستان نے گزشتہ سال نومبر میں اپنے کم ہوتے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے اور قرضوں کی ادائیگیوں میں توازن قائم کرنے کے لیے IMFسے یہ قرض لینے پر اتفاق کیا تھا۔

