ایک نئے جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ ہر سال دنیا بھر میں لگ بھگ ایک کروڑ تیس لاکھ بچے وقت سے پہلے پیدا ہوجاتے ہیں اور یہ کہ ان میں سے تقریباً دس لاکھ پیدائش کے صرف ایک ماہ کے اندر ہلاک ہوجاتے ہیں۔
ایک امریکی فلاحی ادارے ’ دی مارچ آف ڈائمز‘ کی یہ رپورٹ قبل از وقت پیدائشوں کے بارے میں پہلی جامع عالمی رپورٹ ہے۔
اس تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ سب سے زیادہ قبل از وقت پیدائش کے واقعات افریقہ اور ایشیا میں پیش آتے ہیں اگرچہ گذشتہ 25 برسوں میں امریکہ میں ان واقعات میں 36 فی صد اضافہ ہوچکاہے۔
محققین کا کہنا ہےکہ ترقی پذیر ملکوں میں اس مسئلے کی وجہ غذائیت کی کمی اور صحت کی دیکھ بھال کی ناقص سہولتیں ہیں۔ امریکہ میں اس مسئلے کو ان عورتوں کی تعداد میں اضافے سے منسلک کیا جاتا ہے جو 35 کی عمر کے بعد حاملہ ہوتی ہیں اور بچے پیدا کرنے سے متعلق ادویات کا استعمال کرتی ہیں جن کے نتیجے میں ایک سے زیادہ بچے پیدا ہوسکتے ہیں۔
وقت سے پہلے پیدا ہونے جو بچے زندہ بچ جاتے ہیں انہیں صحت کے بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں نابینا پن سے لے کر سیکھنے کی صلاحیتوں میں کمی اور دوسری کئی سنگین بیماریاں شامل ہیں۔

