وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ پاکستانی قیادت نے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ڈائریکٹر سے سرحد پار افغانستان سے بلوچستان میں ہونے والی مبینہ مداخلت اور دہشت گردوں کو اسلحے کی فراہمی پر احتجاج کرتے ہوئے یہ سلسلہ فوری طور پر بند کروانے کی درخواست کی ہے۔

ہفتہ کے روز اسلام آباد میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان نڈر ہو کر ہر معاملے پر نہ صرف احتجاج کرے گا بلکہ اپنا ردعمل بھی ظاہر کرے گا جو ملکی خود مختاری اور مفاد کے منافی ہو۔

پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے سی آئی اے کے ڈائریکٹر لی اون پے ناٹا نے جمعہ کے روز صدر زرداری ، وزیراعظم گیلانی اور آئی ایس آئی کے سربراہ میجر جنرل احمد شجاع پاشا سے ملاقات کی۔  مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان ملاقاتوں میں پاکستانی قیادت نے لی اون پے ناٹا پر واضح کیا کہ القاعدہ اور طالبان کی قیادت پاکستان میں نہیں ہے اور یہ زور بھی دیا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملے بند کیے جائیں۔

صحافیوں سے بات چیت میں رحمان ملک نے امریکی انٹیلی جنس کے اس تازہ دعوے کو مسترد کیا کہ طالبان کا سربراہ ملا عمر کرا چی میں ہے اور کہا کہ اگر اس حوالے سے ٹھوس ثبوت فراہم کر دئے جائیں تو پاکستان ضرور کارروائی کرے گا۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت سرحد کو دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے بھرپور مدد فراہم کرے گی اور سلسلے میں صوبے کو مزید نفری بھی دی جارہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد اور پشاور سمیت دوسرے شہروں میں ایسے سکینرز نصب کیے جارہے ہیں جس سے دھماکا خیز مواد لے کر آنے جانے والی گاڑیوں کا پتا چلایا جا سکے گا۔