سوات اور مالاکنڈ ڈویژن  کے جنگ سے متاثرہ علاقوں کے بے گھر افراد کی واپسی کا عمل جاری ہے۔ مختلف اعدادو شمار کے مطابق طالبان کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کے نتیجے میں لگ بھگ تیس لاکھ افراد کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑاتھا۔ اسے  گزشتہ چند دہایئوں میں ہونے والی سب سے بڑی ہجرت کہا جارہا ہے۔حکومتِ پاکستانی حکومت  کی جانب سے  پناہ گزین کیمپوں میں رہائش پذیر بے گھر افراد کی مدد کے لیے عالمی سطح پر اپیلوں کے باوجود اسے ابھی تک اتنی امداد نہیں مل سکی ہے جتنی کہ اسے ضرورت ہے۔ اب جبکہ ان افراد کی واپسی اور بحالی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ امریکہ میں موجود پاکستانی اور امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ بے گھر ہونے والے افراد کے ساتھ ساتھ بچوں اور نوجوانوں کی معاشی ضروریات کو بھی  ترجیح دی جانی چاہیے۔

بے گھر افراد کی واپسی پیر کے روز شروع ہوئی جو ابتدا میں تو کافی سست تھی مگر منگل کے روز اس میں تیزی دیکھنے میں آئی۔ واپس جانے والوں کو اپنے گھر لوٹنے کی خوشی بھی ہے مگر بہت سے ایسے بھی ہیں جو حکومت کے انتظامات اور رویے سے نالاں بھی  ہیں۔ جبکہ کچھ ابھی بھی خوف زدہ ہیں کہ کیا واپس جانا محفوظ ہو گا؟

عالمی ممالک اور امریکی امداد کے حوالے سے سابق سیکرٹری خارجہ ریاض محٕمد خان کہتے ہیں کہ انفراسٹرکچر  اور گھروں کو پھر سے تعمیرکرنے کے علاوہ بھی بہت سے شعبوں میں مدد کرنی ہو گی۔

ان کا کہناتھا کہ ان کو راشن اور غذا کی بھی ضرورت ہو گی کیونکہ وہ  اپنی فصل کو نہیں کاٹ سکے  تھے ۔ تیسری ضرورت یہ ہے کہ امن وامان  کے لیے ایک خصوصی پولیس تشکیل دے رہی ہے، اس کے لیے فنڈز کی ضرورت ہو گی۔ ان کی ٹرینگ کی ضرورت ہو گی۔ اور یہ تمام ایسےشعبے ہیں جن میں مدد کی جا سکتی ہے۔

متاثرین کی بحالی میں ایک اور بڑا چیلنج تباہ شدہ تعلیمی اداروں کو محفوظ بنا کر طلبا کی تعلیم کو فوراً شروع کرنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں بنیادی کام متاثرین کے اپنے علاقوں میں واپس پہنچنے سے پہلے شروع کر دیا جانا چاہیے۔ جس میں وکیشنل سینٹرز کا قیام اور امدادی عملے کی تعیناتی شامل ہے۔ ربیکا وِن تھراپ کا تعلق بروکنگز انسٹی ٹیوشن سے ہے وہ انٹرنیشنل رسکیو کمیٹی میں ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کی سربراہ رہ چکی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس بارے میں کافی تحقیق کی جا چکی ہے کہ لڑائی ختم ہونے کے بعد آپ بچوں اور بچیوں کو صرف ٹیچرز اور بنیادی لرنگ مٹیریل کی مدد سے پڑھائی کی جانب واپس لا سکتے ہیں۔ یہ سب کسی کے گھر پر بھی ہو سکتا ہے یا کسی اور سماجی ادارے میں یا مسجد میں۔ ایک بات جو بہت ضروری ہے وہ یہ کہ لڑکیوں کو فوراً واپس تعلیم میں لایا جائے۔ کیونکہ جب لڑکے اور لڑکیاں ایک سال سے زیادہ عرصے تک سکولوں سے باہر رہیں تو تحقیق یہ بتاتی ہے کہ انہیں واپس سکول میں لانا بہت مشکل ہے۔

ربیکا کہتی ہیں کہ چاہے ان مراکز میں تمام تر مضامین نہ پڑھائے جائیں لیکن کچھ تعلیمی سرگرمی بہت ضروری ہے تاکہ بچوں کو سکول کی روٹین پر واپس لایا جا سکے۔ اور اس سلسلے میں بچوں کی نفسیات سے ڈر ختم کرنے کےلیے کسی بھی سطح کے ٹیچرز بہت کچھ کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اکستان میں آرٹ اور شاعری بہت مقبول ہے اور وہ ڈرائنگ اور ڈرامہ کی مدد لے سکتے ہیں ۔ تاکہ بچے اپنی سوچ کا اظہار کر سکیں۔ عام طور پر یہ کسی کورس کا حصہ نہیں ہوتا مگر یہ انتہائی اہم جزو ہے۔اس کے ذریعے  بچے جس صورتِ حال سے گزرے ہیں اسے سامنے لا سکیں اور ایک محفوظ ماحول میں ان کے اساتذہ اس خوف سے باہر نکلنے میں ان کی مدد کر سکیں گے۔

کمیونٹی کی سطح پر امدادی کاموں میں شامل ہونے کی ترغیب دے کر بھی بحالی اور دوبارہ تعمیر کے  کام کی رفتار کو تیز کیا جا سکتا ہے۔ مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ امدادی بل پاس کرنا کافی نہیں اگر یہ امداد اور عوام کی  بحالی کے پروگرام صحیح وقت پر شروع نہ کیے گئے تو انتشار پھیلانے والی طاقتیں اس صورتِ حال سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔