رات کے وقت گاڑی کی ہیڈلائٹس میں آپ کو نمایاں طور پر یہ محسوس ہوا ہوگا کہ سڑک ناہموار ہے اور اس میں لہریں بنی ہوئی ہیں۔ نئی تعمیر ہونے والی سڑکوں پر بھی کچھ عرصے کے بعد لہریں بن جاتی ہیں ۔سڑک ناہموار ہونے کے باعث اس پرگاڑی چلاتے ہوئے جھٹکے محسوس ہوتے ہیں اور سفر خوش گوار نہیں رہتا۔

سڑکیں  ناہموار کیوں ہوجاتی ہے ، یہ جاننے کے لیے کینیڈا، فرانس اور برطانیہ کے ماہرین کی ایک ٹیم نے  ناہموار سڑکوں پرہچکولوں کے بغیر گاڑی چلانے کےلیے تجربات کیے ہیں۔ انہوں نے اپنی لیبارٹری میں ایک سڑک بنائی۔ اپنی  تحقیق کے دوران انہیں معلوم ہوا کہ  گاڑیوں کے  پہیوں پر لگے سپرنگوں پر مبنی سسپنشن سسٹم کو نکال دینے سے سڑک پر لہریں پیدا نہیں ہوتیں  اور گاڑی ہموار انداز میں چلتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کے سسپنشن نظام کو بہتر بنا کر سڑکوں کہ ہموار رکھنے کے ساتھ ساتھ سفر کو خوش گوار  اور پرسکون بنایا جاسکتا ہے۔

سائنس ڈیلی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف ٹورنٹو سے تعلق رکھنے والے ٹیم کے ایک رکن سٹیون مورس کا کہنا ہے کہ سڑک کے گڑھوں  پر سے گاڑی کے پہیے ریاضی کے اصول کے مطابق اسی طرح اچھلتے ہیں جس طرح پانی کی سطح پر پھینکا جانے والا پتھر کا ٹکڑا۔

ان کا کہنا تھا کہ گاڑی کے پہیے سڑک پر واش بورڈ کے اصول کی طرح کام کرتے ہیں۔واش بورڈ لکڑی کا وہ ٹکڑا ہے جسے کپڑے دھونے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔واش بورڈ پر کچھ عرصے تک  کپڑے مسلسل پٹخ پٹخ کر دھونے سے  واش بورڈ ناہموار ہوجاتا ہے اورا س پر لہریں بن جاتی ہیں۔ یہ لہریں طبعیات کے اصول کے تحت ایک دوسری قوت کے استعمال کے نتیجے میں ظاہر ہوتی ہیں۔
 
مورس کا کہنا تھا  کہ سڑک پر واش بورڈ جیسے عمل کو سمجھنے کے لیے ہم نے لیبارٹری میں ایک تجرباتی سڑک بنائی ۔ اس پر ہم  نے ایسے پہیوں کو چلایا جن کے سسپنشن سسٹم کے سپرنگ نکال کر ان کی جگہ افقی سمت جھکے ہوئے سادہ بلیڈ لگائے گئے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ پہیوں کو صرف ایک خاص  رفتار پر جھٹکا لگا۔

مورس کا کہنا تھا کہ ہم  نے پانی کی سطح پر پتھر کے اچھلنے کی سائنس کی بنیاد پر ایک خاص رفتارپر پہنچ کر پہیے کو لگنے والے جھٹکوں کا تجزیہ کیا۔فزکس کے اصول کے تحت جب پانی کی سطح پر کوئی پتھر پھینکا جاتا ہے تو اسے سطح سے ٹکرا کو اچھلنے کے لیے ایک خاص رفتار کی ضرورت ہوتی ہے۔واش بورڈ  اس عمل سے مشابہت رکھتا ہے۔

مورس کہتے ہیں کہ واشن بورڈ انداز کی سڑکوں سے دنیا بھر میں دیہی علاقوں میں گاڑیاں چلانے والے ڈرائیور آگاہ ہیں۔ یہ اصول صرف سڑکوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ فطرت اور ٹیکنالوجی میں بھی کئی جگہوں پر دکھائی دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب کسی ایسی سطح پر جواپنی ہیت بدل سکتی ہو، کوئی بیرونی قوت اثر کرتی ہے تو اس کے نتیجے میں وہ ناہموار ہوجاتی ہے۔ واش بورڈ سڑک  کی ایک مثال ساحل سمندر کے کنارے بچھی ہوئی ریت ہے جس پر ہوا یا پانی سے لہریں سی بن جاتی ہیں۔ اسی طرح موٹر سائیکلیں اور برف پر چلنے والی گاڑیاں بھی راستے کو ناہموار بناتی ہیں۔ حتیٰ کہ واش بورڈ کا اصول ریل کی پٹڑی  پر بھی اثرانداز ہوتا ہے اور اس پر بھی ناہموار لہریں دیکھی جاسکتی ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ گاڑیوں کے سسپنشن نظام کو بہتر بنا کر سڑکوں کو طویل عرصے تک ہموار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

اس تحقیق کی سربراہ این فلورنس بٹبول  تھیں اور اس کی ٹیم میں اسٹیفن مورس اور نکولس ٹابرلٹ ،  اور کیمرج یونیورسٹی کے جم مک ایلوین شامل تھے۔تحقیق سے منسلک تجربات کیمبرج یونیورسٹی  اور لیون یونیورسٹی میں کیے گئے ۔