سوڈانی کلیسا کے ایک سینئر پیشوا ، دانیال ڈینگ کا کہنا ہے کہ جنوبی سوڈان میں جاری قبائلی تشددایک منظم سازش ہے جِس کا مطلب امن سمجھوتے کو سبوتاژ کرنا ہے۔ اِسی معاہدے کے ذریعے ہی2005ء میں سوڈان کے شمال جنوب کی لڑائی کا خاتمہ ہوا۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق چوپایوں پرچھاپے مارنے اور قبائلی دشمنیاں تشدد کا باعث بنیں، جِن کی بنا پر اسی سال کم از کم 1200لوگ ہلاک ہوئے۔
ڈینیل ڈینگ سوڈان کے اپسسکوپل چرچ کے اسقفِ اعظم ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ اِن میں سے کچھ حالیہ حملے خودکار ہتھیاروں سے کیے گئے جو باقاعدہ تربیت یافتہ، یونیفارم میں ملبوس ملیشیا نے کیے۔
اُنھوں نے گذشتہ ہفتے ریاستِ جونگلئی میں ہونے والے چھاپے کی مثال پیش کی جِس میں 40افراد ہلاک ہوئے، جِن میں کلیسا کا ایک عہدے دار بھی شامل ہے جو اُس وقت ہلاک ہوا جب وہ عبادت میں مشغول تھا۔
سوڈان پیپلز لبریشن موومنٹ ، جو جنونی سوڈان کی سرکردہ پارٹی ہے، اُس کے اعلیٰ عہدے داروں نے شمال میں قائم حکومت پر
جنوب میں کارفرما گروہوں کو ہتھیار بند کرنے کا الزام عائد کیا ہے، جِس کا مقصد نیا تنازع کھڑا کرنا اور 2005ء کے امن معاہدے کو پٹڑی سے اتارنا ہے۔ حکومتِ سوڈان نے اِن الزامات کو مسترد کیا ہے۔
ڈینگ نے امن معاہدے کے دشمنوں پر ہلاکتوں کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر حملے زور پکڑتے ہیں تو شمال اور جنوب کے درمیان امن سمجھوتا ختم ہو سکتا ہے۔
جنوبی سوڈان نے سنہ 2005ء کے سمجھوتے کے تحت ہی نیم خودمختاری حاصل کی۔ آزادی کے معاملے پر خطے میں 2011ء میں ریفرینڈم ہونے والا ہے۔

