پاکستانی حکومت اور حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے امریکی اخبار میں شائع ہونے والے اُس خط پر شدید ردعمل کا اظہار کیا جار رہا ہے جس میں صدر باراک اوباما نے صدر آصف علی زرداری پر زور دیا ہے کہ وہ انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو تیز کریں اورانھیں وسعت دینے کے ساتھ ساتھ انتہا پسندی کے خلاف مہم میں سیاسی و قومی سلامتی کے اداروں کے یکجا کریں۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پیر کے روز ملتان میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے اس خط پر حکومت پاکستان کا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی سیکورٹی فورسزاور عوام کے تعاون و قربانیوں کو پوری دنیا نے سراہا ہے۔ اُن کے بقو ل انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے کسی کے کہنے پر پاکستا ن کی کوششیں نہ زیادہ اور نہ ہی کم کی جائیں گی۔
” دہشت گردی کو شکست دینا پوری دنیا کا مشترکہ مقصد ہے لیکن اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے پاکستان اپنا فیصلہ خود کرے گاجس کے لیے ملک کی ضروریات اور ترجیحات کو مدنظر رکھا جائے“۔
وزیر خارجہ قریشی نے کہا کہ افغانستان کے لیے امریکہ کی حکمت عملی کا ازسر نو جائزہ لیا جا رہا ہے اور توقع ہے کہ رواں ماہ اسے حتمی شکل دے دینے کے بعد صدر اوباما اس کا اعلان بھی کریں گے۔ اُنھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں امریکہ کی سیاسی اور فوجی قیادت پاکستان کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے کیوں کہ وزیر خارجہ کے بقول افغانستان میں ہونے والی تبدیلیوں سے پاکستان براہ راست متا ثر ہوتا ہے۔
اُنھوں نے پاکستان کے خدشات کو دہراتے ہوئے کہاکہ اگر امریکہ افغانستان میں فوجوں کی تعداد میں اضافہ کرتا ہے تو اس سے پاکستان عدم استحکام کا شکار ہو گا اس لیے جو بھی امریکی پالیسی وضع کی جائے گی اُس میں پاکستان کے ان خدشات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے ۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اسی صلاح ومشورے کے سلسلے میں ایڈمرل مائیک ملن بھی پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے ملاقات کے لیے اسلام آبا د آئیں گے۔
اُدھر ملک کی حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما راجا ظفر الحق نے بھی وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں صدر اوباما کے خط پر شدید تنقید کی ہے۔ ان کے بقول یہ خط ملک کے ساتھ ایک مذاق ہے کیوں کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کی بھاری قیمت ادا کررہا ہے جس کا ثبوت عسکریت پسندوں کے خلاف لڑائی میں بڑی تعداد میں سکیورٹی فورسز کی ہلاکتیں ہیں جن میں افسران بھی شامل ہیں۔ راجا ظفر الحق نے کہا کہ عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کا فیصلہ حکومت، فوج اورسیاسی پارٹیوں نے مل کر کیا ہے ۔
تجزیہ نگار حسن عسکری کہتے ہیں کہ اُن کے خیال میں صدر اوباما کاخط پاکستان پر دباؤڈالنا نہیں بلکہ ایک تجویز ہے جسے اہمیت نہیں دینی چاہیے کیوں کہ حکومت اور فوج عسکریت پسندوں کے خلاف بھرپور آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے ۔
دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عسکریت پسندوں کے خلاف جاری لڑائی کے باعث شدت پسندوں کی طرف سے سب سے زیادہ ردعمل کا سامنا صوبہ سرحد کو کرنا پڑا ہے۔ سرحدکے صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے صدر اوباما کی طرف سے خط میں کیے گئے مطالبے کے برعکس بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ شدت پسندوں کے خاتمے کے لیے پاکستان اور صوبہ سرحدکو بھرپور مالی مدد فراہم کرے تاکہ اس لڑائی میں برسرپیکار سکیورٹی فورسز کے لیے مطلوبہ سازوسامان خریدا جا سکے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی خبر کے مطابق صدر اوباما کا خط قومی سلامتی کے مشیر جیمز جونز نے گذشتہ جمعہ کو اسلام آباد میں صدر زرداری کے ساتھ ملاقات میں انھیں دیا تھا اور خبر کے مطابق خط میں امریکی صدر نے واضح کیا ہے کہ افغانستان میں نئی حکمت عملی کی کامیابی کا دارومدار پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف موثر کوششوں پر ہو گا۔

