اقوامِ متحدہ کے امدادی کاموں کے سربراہ  نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سری لنکا میں خانہ جنگی کے دوران بے گھر ہونے والے  دو لاکھ 75 ہزار لوگوں میں  سے  نصف سے زیادہ لوگ اپنے گھروں کو لوٹ گئے  ہیں۔    لیکن انہوں نے  کہا ہے کہ حکومت کو اُن لوگوں کی مدد کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جو ابھی تک  عارضی کیمپوں میں مقیم ہیں۔

جان ہومز نے جمعرات کے روز بے گھر لوگوں کے عارضی کیمپوں کا دورہ کیا۔   انہوں نے نامہ نگاروں سے کہا ہے کہ تقریباً ایک لاکھ 30 ہزار تامل مرد،  عورتیں اور بچّے ابھی تک سخت پہرے میں قائم ان کیمپوں  میں مقیم  ہیں۔

سری لنکا کے عہدے داروں  کو ان لوگوں کی اپنے گھروں کو  واپسی کی رفتار تیز کرنے کے لیے بین الاقوامی دباؤ کا سامنا رہا ہے،  جو تامل ٹائیگر باغیوں کے خلاف حکومت کی عشروں پرانی جنگ کے آخری مہینوں میں بے گھر ہوئے تھے۔
ہومز نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ  حکومت ان لوگوں کو کیمپوں کے اندر گھومنے پھرنے کی آزادی دے دے گی۔   اور انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہئیےکہ وہ اُن لوگوں کو مزید امداد فراہم کرے  جن کے  گھر کیمپوں میں اُن کی حراست کے دوران تباہ ہوگئے۔