سری لنکا کے صدر نے ملک کی 25سال پُرانی خانہ جنگی ختم کرنے کے لیے ایک کامیاب فوجی مہم کے بعد اپنی مقبولیت سے فائدہ اُٹھانے کی اُمید میں مقررہ وقت سے پہلے صدارتی انتخاب کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
توقع ہے کہ یہ الیکشن مہندا راجا پاکسے کی چھ سالہ معیادِ صدارت کے ختم ہونے سے تقریباً دو سال پہلے ہوگا۔ خیال ہے کہ فوج کے وہ سابق سربراہ، جنہوں نے تامل باغیوں کے خلاف فوجی کارروائی کی قیادت کی تھی، صدر کے خلاف الیکشن لڑنے پر غور کررہے ہیں۔ پولنگ وسط جنوری تک ہوسکتی ہے۔
جنرل سرتھ فان سیکا نے حالیہ ہفتوں میں فوج کی سربراہ کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ انہوں نے اپنے استعفے کی وضاحت کرتے ہوئے کہاتھا کہ صدر راجا پاسکے نے اُن کے اختیارات کم کردیے تھے۔ اس لیے کہ انہیں ڈر تھا کہ وہ صدر کے خلاف کوئى فوجی انقلاب برپا کردیں گے۔ فان سیکا نے ابھی تک واضح طور پر یہ نہیں کہا ہے کہ وہ منصبِ صدارت کے لیے الیکشن لڑیں گے۔

