پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ہفتے کے روز کہا کہ سوات میں عسکریت پسندوں کے خلاف کی جانے والی فوجی کارروائی میں 550افسران اور جوانوں نے جان کی قربانی دی جب کہ 1500کے لگ بھگ زخمی ہوئے۔

قربانی دینے والوں کا تعلق،  اُن کے بقول ملک کے تمام صوبوں اور آزاد کشمیر سے تھا۔

اُنھوں نے یہ بات سوات کے دورے میں صحافت کے حوالے سے منعقدہ ایک تقریب میں شرکت کے دوران اپنے مختصر خطاب میں کہی۔

اِس موقع پر اُنھوں نے سوات میں امن کی بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ سوات کے لوگوں کے تعاون سے ممکن ہوا۔

جنرل کیانی کے بقول عوام یا دہشت گردکسی کے ذہن میں کوئی شک نہیں رہنا چاہیئے کہ جب تک سوات میں امن و خوش حالی لوٹ کر نہیں آتی پاکستان فوج علاقے میں ہی رہے گی۔

دریں اثنا ہفتے کی صبح پشاور کے ایک رہائشی علاقے میں بم دھماکے کے نتیجے میں ایک غیر سرکاری ادارے کے دفتر کو جزوی نقصان پہنچا اور ایک شخص زخمی ہوا۔

پشاور ہی سے ملحق خیبر ایجنسی میں حکام نے اسلحے سے بھرے دو ٹرک قبضے میں لے کر چار افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا۔  حکام کے بقول یہ ٹرک افغانستان سے آرہے تھے۔

اُدھر رزمک سے ملحق جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے میں ایک جھڑپ کے دوران سیکیورٹی فورسز کے چھ اہل کار اور 14عسکریت پسند ہلاک ہوگئے۔