اسلام آباد پولیس نے ایک اہم مشتبہ دہشت گرد کو گرفتار کر نے کا دعوی ٰ کیا ہے جو وفاقی دارالحکومت میں ہونے والے مختلف خود کش بم دھماکوں میں ملوث بتایا گیا ہے۔
جمعہ کے روزنیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس سید کلیم امام نے بتایا کہ جمشید عرف طاہر نامی شخص سوات کا رہنے والا ہے اور یہ ایک تربیت یافتہ دہشت گرد ہے جو رواں سال کے دوران اسلام آباد میں ہونے والے پانچ میں سے چار خودکش حملوں میں ملوث ہے۔
خاکی رنگ کے لباس میں ملبوس تقریباََ تیس سالہ باریش مشتبہ عسکریت پسند کو نیوز کانفرنس کے دوران میڈیا کے سامنے بھی پیش کیا گیا۔ پولیس کے مطابق اس کے گروپ کے بعض دوسرے ملزمان کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔
کلیم امام نے بتایا کہ جمشید عرف طاہر اکتوبر کے اوائل میں اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے ادارے برائے خوراک ڈبلیو ایف پی کے دفتر پر خود کش بم دھماکے کے لیے محمد عرف اویس نامی حملہ آور کو لے کر آیا تھا جب کہ اس سے پہلے یہی شخص ہارون نامی حملہ آور کو دارالحکومت میں رسکیو 15 پولیس کے دفتر پر حملے کے لیے لے کر آیا تھا۔
انسپکٹرجنرل پولیس کا کہنا تھا کہ جمشید عرف طاہر کا تعلق اورکزئی قبائلی ایجنسی کے ملا رحیم گروپ سے ہے اور یہ دھماکا خیزی اور اسلحے کے استعمال کے حوالے سے مکمل تربیت یافتہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتاری کے وقت اس شخص سے دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا ہے۔
کلیم امام نے مزید بتایا کہ یہ مشتبہ دہشت گرد اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں پولیس کے دفاتر اور سفارت خانوں کی نگرانی کرتا رہا ہے اور منصوبہ بندی کر کے مستقبل میں حساس مقامات کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتا تھا۔ انسپکٹر جنرل پولیس نے بتایا کہ جمشید عر ف طاہرماضی میں اسلام آباد کی لال مسجد سے منسلک تھا جہاں مورچہ بند عسکریت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز نے جولائی 2007ء میں آپریشن کیا۔
انہوں نے بتایا کہ یہی شخص دہشت گردی کی دوسری وارداتوں میں ملوث پایا گیا ہے اور سوات میں سکیورٹی اہل کاروں کو ہلاک کرتا رہا ہے۔

