ایسے وقت میں افغانستان کے بارے میں صدر براک اوباما کے ایک اہم فیصلے کی توقع کی جارہی ہے، اُس ملک میں امریکی مِشن کے مستقبل کے بارے میں امریکی ارکانِ کانگریس کے رائیں مختلف کیمپوں میں بَٹی ہوئى ہیں۔
صدر اوباما نے وعدہ کیا ہے کہ وہ آنے والے ہفتوں میں افغانستان کے لیے کسی منصوبے کی نقاب کُشائى کریں گے۔ لیکن ری پبلکن ارکانِ کانگریس اس صورتِ حال پر نکہ چینی کررہے ہیں، جسے وہ فیصلہ کرنے میں ایک خطرناک تاخیر قرار دیتے ہیں۔
ریاست ٹینیسی سے تعلق رکھنے والے ری پبلکن سینیٹر لَمار الیگزینڈرنے اتوار کے روز ٹی وی چینل فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ صدر کو چاہئیے کہ وہ مسئلے کی فوری اہمیت کے احساس کا مظاہرہ کریں اور کانگریس کو بتائیں کہ وہ کیا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
تاہم کانگریس کے کچھ ارکان کو اس بارے میں شبہ ہے کہ امریکی فوج میں اضافہ کردینے سے طالبان جنگجوؤں کی شکست یقینی ہوجائے گی اور وہ ملک دہشت گردوں کے لیے محفوظ ٹھکانا نہیں بنے گا۔
ڈیمو کریٹک سینیٹر آرلین سپیکٹر نے اتوار کو ٹیلی ویژن کے اسی پروگرام میں حصّہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ اُن کے خیال میں امریکہ کو افغانستان کے لیے اُس وقت تک مزید فوج نہیں بھیجنی چاہئیے جب تک القاعدہ کے خلاف امریکہ کی جنگ میں ایسا کرنا بالکل ناگزیر نہ ہو جائے۔
افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کی فوجوں کے کمانڈر جنرل سٹینلی میک کِرسٹل نے وہاں مزید 40 ہزار فوجی بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جس سے اُس ملک میں امریکی فوج کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہوجائے گی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ مسٹر اوباما کے سامنے چار متبادل ہیں جن پر وہ غور کررہے ہیں۔ اور ان میں 10 ہزار سے لیکر 15 ہزار تک مزید فوج بھیجنا اور اس سے بھی زیادہ فوج کے لیے جنرل کِرسٹل کی درخواست کو قبول کرلینا، دونوں ہی شامل ہیں۔


