امریکہ میں 2001 ء میں دہشت گردوں کے گیارہ ستمبر کے حملوں کےجن پانچ ملزموں کو مقدمے کا سامنا ہے، اُن میں سے ایک کے وکیل نے کہا ہے کہ ملزم صحتِ جرم سے انکار نہیں کریں گے اور وہ مقدمے کو  اپنے سیاسی نظریات کے اظہار کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کریں گے۔

اٹارنی سکاٹ فرینز ٹر میکر نے کہا ہے کہ  علی عبدالعزیز  علی  اور دوسرے چار آدمیوں کا کہنا ہے کہ وہ اُن حملوں میں  اپنے عمل دخل سے انکار نہیں کر یں  گے جن میں تقریباً تین ہزار لوگ ہلاک ہوئے تھے۔   لیکن  وہ جیوری کے سامنے اس بات کی وضاحت کریں گے کہ انہوں  نے وہ حملے کیوں کیے تھے۔

فرینزٹرمیکر نے پچھلے ہفتے خلیج گوانتانامو، کیوبا میں امریکہ کے فوجی جیل کیمپ میں علی عبدالعزیز سے ملاقات کی تھی۔

علی اُن حملوں کے مبیّنہ منصوبہ ساز  خالد شیخ محمد کا بھتیجا ہے۔

امریکہ کے محکمہ انصاف نے اس ماہ کے شروع میں اعلان کیا تھا  کہ خالد شیخ محمد اور علی عبالعزیز سمیت  پانچوں آدمیوں پر  نیویارک شہر میں ایک ایسی وفاقی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا، جو اُس مقام سے تھوڑے ہی فاصلے پر ہے  جہاں  کبھی ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی بلند و بالا  عمارتیں ہوا کرتی تھیں۔