امریکہ میں جاری معاشی بحران نے کئی امریکی خاندانوں کے لئے پیٹ بھر کھانے کا حصول مشکل بنا دیا ہے۔ واشنگٹن کے فیڈنگ امریکہ نامی  ادارے کے ایک سروے کے مطابق گزشتہ سال کے دوران ضرورت مند افراد کے لئے قائم امریکی فوڈ بینکس میں فراہم کئے جانےو الے کھانے کی طلب میں 30فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ کئی دیگر فلاحی ادارے بھی ایسی ہی صورتحال رپورٹ کر رہے ہیں خصوصا ان متوسط گھرانوں میں جو معاشی بحران میں اپنی ملازمتوں سے محروم ہوئے۔

لین ٹریٹو  کے لئے اپنے چار بچوں کی پرورش ایک امتحان بنی ہوئی ہے۔ جائیداد کی خرید و فروخت کرنے والی ایک کمپنی سے نوکری ختم ہونے کے بعد اب یہ بے روزگاری کے دن کاٹ رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ کہیں بھی چلے جاؤ، کوئی کام نہیں ہے وہ کہتے ہیں ہم نے بھرتیاں روک دی ہیں۔

اپنے بچوں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے اب انہیں اپنے سابق شوہر کی مدد لینی پڑ رہی ہے، مگر ضروریات ختم ہونے کا نام نہیں لیتیں۔ اب انہوں نے اپنے بچوں کے کھانے  کی ضرورت کے لئے فلوریڈا کے نواح میں واقع ایک فلاحی تنظیم کے تحت کام کرنے والے مفت باورچی خانے کا رخ کیا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ بہت مشکل ہو گیا ہے۔ میرے بچے بڑے ہو رہے ہیں ،وہ ہر وقت کچھ نہ کچھ کھانے کو مانگتے ہیں۔ مطلب کھانا کھانے کے دس منٹ بعد انہیں پھر  کچھ چاہئے ہوتا ہے۔

یہ امریکہ کی اس تیزی سے بڑھتی پھیلتی مڈل کلاس کا حصہ ہیں جو امریکہ کی معاشی سست روی کے اثرات جھیل رہی ہے۔

سکاٹ جارج کہتے ہیں کہ کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے  مالی حالات  چند سال پہلے تک انتہائی خوشگوار  تھے، صرف پچھلے سال تک یہ لوگ بڑی بڑی گاڑیوں میں پھرتے تھے، انہیں کبھی مدد مانگنی نہیں پڑی تھی۔

جارج سکاٹ  آرلینڈو میں ایک ایسا سٹور چلاتے ہیں جہاں کھانے کی اشیا انتہائی رعایتی نرخ پر فراہم کی جاتی ہیں۔  گزشتہ مہینے اس سٹور سے  آٹھ ہزار گاہکوں نے  سودا خریدا جو ایک ریکارڈ ہے۔ سٹور کے  کئی گاہک  کچھ عرصے پہلے تک اچھی ملازمتیں کرتے تھے۔

شرلی اینڈر سن کہتی ہیں کہ ہر روز اپنے آپ کو یہ سمجھانا بہت مشکل ہے کہ مجھے ہمت نہیں ہارنی۔ مجھے ابھی نوکری کی تلاش جاری رکھنی ہے۔

امریکہ میں معاشی مندی جہاں متوسط طبقے کی اکثریت کی ملازمتیں ہڑپ کر چکی ہے،  وہاں عوام  کے عطیات سے چلنے والے ادارے بھی مالی مسائل کا شکار ہیں۔ گزشتہ سال امریکہ کے دو تہائی خیراتی اداروں کو ملنے والی رقوم میں دو فیصد کمی ہوئی۔ مگر اس خیراتی سٹور کی انتظامیہ کو امید نہیں کہ 2010 سے پہلے رعایتی نرخوں پر سودا خریدنے والوں کی تعداد میں کوئی کمی آئے گی۔