دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ اور پاکستان دونوں ممالک ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں اور دونوں  کو ایک دوسرے کے بھرپورتعاون کی ضرورت بھی ہے۔ مگر دونوں ملکوں کے درمیان بداعتمادی  ایک فضابھی موجود ہے۔ جو دہشت گردی کے خلاف اس جنگ کے آغاز سے قائم ہے۔ عالمی امن کو پیش خطرات سے نمٹنے کی کوشش  میں یہ جنگ  پاکستان کے اپنے شہروں میں داخل ہوچکی ہے۔ ایسے وقت میں پاک امریکہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے کیا کیا جانا چاہیے۔
دوستی بھی اور شکایتیں بھی۔ کیا یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ چل پائیں گی؟ اور چلی بھی تو کب تک؟
امریکہ کو پاکستان پر اعتماد نہیں  اور پاکستان یہ نہیں جانتا کہ یہ دوستی کب تک مضبوط رہے گی۔ یعنی جب امریکہ افغانستان میں اپنے مقاصد حاصل کر لے گا تو کیا اس کے بعد بھی پاکستان کو اہم اتحادی سمجھا جائے گا؟ کیا اس کے بعد بھی پاکستان کی معاشی شعبوں میں مدد کی جائے گی؟ یا پھر سے اسے پابندیوں کا سامنا کرنا ہوگا۔
شجاع نواز کا تعلق اٹلانٹک کونسل سے ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ایک تو یہ کہ امریکہ کو اس تعلق میں اعتماد پیدا کرنا چاہیے تاکہ پاکستان کے عوام اور حکومت دونوں یہ سمجھ جائیں کہ امریکہ کی نئی پالیسی ان کی  دور کی سوچ پر مبنی ہے۔ یہ صرف اس سال کی یا اگلے دو تین سال کی نہیں سوچ رہے۔ دوسرا یہ کہ امریکہ کو چاہیے کہ وہ پاکستان کے معاشی  حالات بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرے۔
پاکستان کا موقف ہے کہ اس جنگ کے دوران اس کی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ رہی سہی کسر توانائی کے بحران نے پوری کر دی ہے۔ ہیرٹیج فاونڈیشن کی لیزا کرٹس کہتی ہیں کہ تعلقات میں اعتماد پیدا کرنے کے لیے کیر ی لوگر بل فوراً پاس کیا جانا چاہیے۔ان کا کہنا ہے کہ ایک اعشاریہ پانچ ارب ڈالرمعاشی مدد کے طور پر ہر سال پانچ سال کے لیے۔ یہ تعلقات میں سنجیدگی دکھانے لیے  امریکہ کی طرف سے  بہترین نمونہ ہو گا ۔ مگر میرا خیال ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ اور پاکستان کے درمیان جمہوریت کے فروغ اور طالبان کے خلاف پاکستان کی لڑائی میں مدد پر بھی مسلسل بات چیت کی ضرورت ہے۔
سوات میں  طالبان کے خلاف شروع کیے جانے والے آپریشن کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر ہوے ہیں جنہیں خوراک سمیت زندگی کی بنیادی ضروریات مہیا کرنے کے لیےدیگر ممالک سمیت امریکہ نے بھی اڑتیس کروڑ ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا ہے جو باقی کسی بھی ملک  کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
مگر امریکی حکومت کے اراکین اس بات پر پریشان ہیں کہ اس امداد سے پاکستانیوں کے دلوں میں امریکہ کے لیے پیدا ہونے والی محبت زیادہ ہے یا وہ نفرت جو جنوبی وزیرستان میں بغیر پائلٹ طیاروں سے داغے جانے والے میزائلوں کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ پاکستانی حکومت ان حملوں کے لیے امریکہ پر نکتہ چینی  کرتی ہے۔
سینٹر کارل لیون کا کہنا ہے کہ پاکستان  ڈرون کے  استعمال کے خلاف ہے  تو ہمیں بتا دے۔ ہم پاکستان میں یو اے ویز  استعمال نہیں کریں گے اگر وہ اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ مگر وہ  بند کمروں میں ہمیں توگرین سگنل دیتے ہیں اور پھر عوام میں جا کر ہمیں اپنی تنقید کا نشانہ بنائیں میرے خیال میں  اس سے پاکستانی عوام میں ہماری ساکھ کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
یہ حملے جنوبی وزیرستان میں ہو رہے ہیں جو بیت الله محسود کا گڑھ ہے۔ اور حکومتِ پاکستان بھی  بیت الله محسود کے خلاف  آپریشن راہِ نجات شروع کر چکی ہے۔
لیزا کرٹس کے مطابق پاکستان اور امریکہ میں اعتماد کے فقدان کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ امریکہ کے دشمن طالبان ہیں اور پاکستان کو بھارت سے خطرہ ہے مگر اب پاکستانی لیڈر شپ یہ جانتی ہے کہ طالبان ان کے لیے انڈیا سے زیادہ بڑا خطرہ ہیں۔
شجاع نواز کہتے ہیں کہ امریکہ تاریخ میں پہلی مرتبہ  پاکستان اور بھارت دونوں کے ساتھ دوستی کر رہا ہے اور  دونوں کے تعلقات کو معمول پر لا سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے ساتھ دوستی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکہ کو چاہیےکہ وہ ایک ایسی فضا پیدا کرے کہ ہندوستان اور پاکستان آپس میں اپنے باہمی مفادات پر بات کریں تاکہ جنگ کا جو سلسلہ ہے وہ ختم ہو۔
امریکہ کی طرف سے پاکستان کے لیے معاشی امداد اور طالبان جنگجوں کے خلاف پاکستان کی لڑائی پاک امریکہ تعلقات میں بہتری تو لا رہے ہیں مگر امریکی ماہرین یہ کہتے ہیں کہ پاکستان کو اچھے اور برے طالبان میں تفریق بھی ختم کرنا ہو گی۔