گذشتہ دو عشروں میں ریاضی اور سائنس جیسے مضامین میں امریکی طالب علموں کی دلچسپی اور کارکردگی میں کمی آئی ہے۔ امریکی ماہرین تعلیم اسٹوڈنٹس کو  ان مضامین کی طرف راغب کرنے کے لیے نئے طریقوں پر توجہ دے رہے ہیں۔ نیشنل ایجوکیشن ایسوسی ایشن  کا کہنا ہے کہ اکثر تعلیمی ادارے اس سلسلے میں  ویڈیو کی مدد لے رہے ہیں۔

سولہ سالہ جان ڈائز  ایک روائتی  ٹین ایجر ہیں جنہیں ویڈیو گیمز کھیلنا تو پسند ہے مگر پڑھائی کے مروجہ انداز سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہے ، خاص طورپر ہوم ورک کرنا۔

اس سال گرمیوں کی چھٹیوں میں جان گھر میں ہی اسکول کا کام کر رہے ہیں کیونکہ انکے سکول،فلوریڈا وچوئل سکول کا چھٹیوں کا ہوم ورک گھر میں  کمپیوٹر پرکیا جاسکتا ہے۔

سکول کی ڈائریکٹرجولی ینگ کا کہنا ہے کہ اسکول نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے  مختلف مضامین میں بچوں کی دلچسپی بڑھانا چاہتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ہمارے  بہت سے طالبعلم ہیں جو ہمارے سکولوں میں نئی متعارف کردہ ٹیکنالوجی کی مدد سے مختلف مضامین پڑھ رہے ہیں۔ جس سے اچھے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ مثلاً  کانسپائریسی کوڈ ایک ایسی ویڈیو گیم ہے جو امریکی تاریخ پڑھاتی ہے۔ جس میں طالبعلم مختلف واقعات جیسا کہ امریکہ کی جنگ آزادی کے بارے میں کھیل ہی کھیل میں پڑھ لیتے ہیں۔ جان ڈائز  کا کہنا ہے کہ انہیں اس طرح پڑھنا پسند ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں یہ گیم روزانہ کھیلنا پسند کرتا ہوں۔ اور اس طرح سے نئی چیزیں بھی سیکھتا ہوں۔

اس گیم کو وچوئل سکول  نے ہی متعارف کرایا ہے۔ ٹریننگ سیشینز میں اس گیم سے کھیلنا سکھایا جاتا ہے۔ مگر کئی سکولوں  میں ویڈیو گیم کے ذریعے تعلیم دینے کے خیال کوپسند نہیں کیا گیا۔ فیڈریشن آف امریکن سائنٹس کا کہنا ہے کہ بعض سکول روایتی تدریسی کتب چھوڑ کر ویڈیو گیم کی جانب آتے ہوئے ہچکچا رہے ہیں۔

  میساچوسٹس کے تعلیمی ماہرین  کا کہنا ہے کہ ویڈیو گیمز کے حوالے  سخت قوانین  بھی اسے تدریسی طریقے کے طورپر اختیار کرنے سے روکتے ہیں۔

 میڈرڈ یونیورسٹی کی جانب سے حالیہ تحقیق کے مطابق ویڈیو گیمزکا رجحان پیدا کرنے کی شعوری کوشش طالبعلموں کو اس سے دور بھی کر سکتی ہے کیونکہ بہت سے طالبعلموں کو پڑھائی کے دوران اساتذہ کی رہنمائی کی ضرورت رہتی ہے۔

مگر جان ڈائز  کا کہنا ہے کہ conspiracy code  ان کے لیے بہت مفید ثابت ہوئی ہے۔ اور اس کی وجہ سے انکی امریکی تاریخ میں دلچسپی بڑھی ہے۔اور وہ امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں ایسی ہی ویڈیو گیمز مختلف مضامین میں شامل کی جائیں گی۔