حکام کے مطابق منگل کی دوپہر کچہری چوک راولپنڈی کے قریب جی ٹی روڈ پر پولیس ناکے پر پولیس نے ایک نوجوان کو روکا تو اس نے خود کو بم سے اڑا لیا۔جس کے نتیجے میں تین پولیس اہل کاروں سمیت سات افراد ہلاک ہوگئے جب کہ 14 افراد زخمی ہوئے جن میں چھ پولیس اہل کار بھی شامل ہیں۔
وزارت داخلہ کے ترجمان جاوید اقبال چیمہ نے پریس کانفرنس میں واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ حملہ آور کی عمر 19 سے 23 سال کے درمیان تھی اور وہ سڑک پر پیدل آرہا تھا جب پولیس نے اسے روکا تو خود کش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔
ترجمان کے بقول واقعے کی تفتیش شروع کر دی گئی ہے اور ابتدائی طور پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ بم دھماکے کا اصل نشانہ پولیس اہل کار ہی تھے۔انہوں نے خود کش دھماکے کو بزدلانہ کاروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں ضرور لایا جائے گا۔
خیال رہے کہ جس جگہ دھماکا ہوا ہے وہاں فوج کے اعلیٰ عہدیداروں کی رہائش کے علاوہ صدر جنرل پرویز مشرف کی سرکاری اقامت گاہ بھی واقع ہے۔ جب کہ اس سے کچھ ہی فاصلے پر ضلعی عدالتیں واقع ہیں۔

