بین الاقوامی خلائی شٹل پر خلابازوں نے منگل کو اپنی تیسری خلائی چہل قدمی کے دوران شمسی یونٹ کی تنصیب مکمل کر لی ہے۔

خلائی چہل قدم کرنے والے اسکاٹ پرازنسکی اور ڈف وہیلاک نے اسٹیشن کے اندر خلابازوں کی اس وقت راہنمائی کی جب انہوں نے 16 ہزار کلو گرام شمسی کھمبےکو اسٹیشن کے آخری سرے پر نصب کرنے کے لیے مشینی بازو استعمال کیا۔

اس کھمبے کے شمسی پینل دسمبر میں اضافی یورپی ریسرچ لیبارٹری کے لیے بجلی پیدا کریں گے ۔

منگل کے روز خلابازوں کا یہ بھی ارادہ ہے کہ وہ اسٹیشن کے لیے بجلی پیدا کرنے کے لیے ایک کلیدی جوڑ کا معائنہ کریں جو سر دست ٹھیک طرح کام نہیں کر رہا ۔ وہ اس کا موازنہ اسی طرح کے ایک صحیح جوڑ سے کریں گے ۔

اتوار کے روز خلائی چہل قدمی کے دوران دو خلابازوں کو اس جوڑ میں دھات کے ٹکڑے ملےجو پینلز کے گروپ کو سورج کے ساتھ ساتھ گھومنے میں مدد دیتا ہے۔

خلا باز ابتدا کے پروگرام سے ایک دن بعد زمین پر لوٹیں گے تاکہ وہ نقصان زدہ جوڑ کا معائنہ کر سکیں۔