روسی وزیر خارجہ سر گئی لاروف منگل کے روز ایک ایسے وقت تہران کا دورہ کر رہے ہیں جب ایران کے جوہری پروگرام پر ماسکو اور مغرب کے درمیان اختلافات بڑھ رہے ہیں۔

ایرانی عہدے داروں نے کہا ہے کہ لاروف ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے ساتھ مذاکرات کریں گے ۔

روس ایران کے خلاف امریکہ کے یک طرفہ اقدامات اور اس کے خلاف اقوام متحدہ کی مزید پابندیاں نافذ کرانے کی امریکی کوششوں پر نکتہ چینی کرتا رہا ہے ۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ منگل کے روز مسٹر احمدی نژادنے ایران کے خلاف حالیہ امریکی پابندیوں کو کھوکھلا قرار دیا اور کہا کہ ایران امریکہ کے دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا۔

گذشتہ ہفتے امریکہ نے ان پابندیوں کا اعلان کیا تھا جو ایران کے پاسدارانِ انقلاب کو وسیع تباہی کے ہتھیار پھیلانے والی فوج اور اس کی قدس فورس کو مشرق وسطیٰ میں دہشت گردی کی حامی قرار دیتی ہے۔

ان پابندیوں میں تہران کے تین سرکاری بنکوں اور 20 سے زیادہ ایرانیوں اور کمپنیوں کو الگ تھلگ کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔

امریکہ اور اس کے اتحادی ایران پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔

ادھر پیر کے روز جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے کے سر براہ محمد البرادی نے ایران کی طرف سے یورینیم کی افزودگی کی معطلی سے انکار کو قابل افسوس قرار دیا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر البرادی نے تہران پر یہ زور بھی دیا کہ وہ آئی اے ای اے کے ساتھ اپنی سودے بازی میں تعاون اور شفافیت کا مظاہرہ کرے۔