جماعتِ اسلامی صوبہ سرحد کے زیرِ انتظام منگل کے روز چکدرہ کے مقام پر منعقدہ کانفرنس میں حکومت اور سوات سے تعلق رکھنے والے مبینہ مذہبی انتہاپسندوں سے کہا ہے کہ وہ فائر بندی میں توسیع کریں اور سات رکنی جرگے کو اختیار دے کہ وہ مسئلے کا دیرپا اور پر امن حل تلاش کرے۔

 

کانفرنس میں جماعتِ اسلامی کے سرکردہ رہنماؤں کے علاوہ مختلف سیاسی جماعتوں، تجارتی تنظیموں، بلدیاتی عہدے داروں اور پارلیمان کے سابق اور موجودہ ارکان نے شرکت کی۔

 

جرگے میں منظور کی جانے والی قرارداد کے بارے میں جماعتِ اسلامی صوبہ سرحد کے امیر سراج الحق نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اس میں موجودہ جنگ پر افسوس و تشویش  کا اظہار کیا گیا اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ سوات میں شریعت بورڈ قائم کرے اور ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو معاوضہ ادا کرے۔

 

واضح رہے کہ اس جرگے کے علاوہ سوات کی تحصیل کھبل سے تعلق رکھنے والا ایک 25 رکنی جرگہ اور صوبہ سرحد کے نگران وزیر محمد علی شاہ کی سربراہی میں ایک اور کمیٹی بھی مصالحت کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔

 

ادھر سوات میں منگل کے روز سیکیورٹی فورسز اور مبینہ مذہبی انتہا پسندوں کے درمیان فائر بندی آج دوسرے روز بھی جاری رہی۔

 

دریں اثنا شمالی وزیرستان کے قصبے میر علی کے قریب سکیورٹی فورسز کے قافلے پر عسکریت پسندوں کے حملے کے نتیجے میں چار افراد کی ہلاکت کی اطلاع ملی ہے۔