عراقی حکومت کے ترجمان نے آج منگل کے روز کہا ہے کہ عراق کی کابینہ نے ایک قانون منظور کیا ہے جس کے تحت عراق میں کام کرنے والی نجی سیکورٹی کمپنیاں  قانونی کارروائی سے مبّرا نہیں رہیں گی۔

 

ترجمان نے بتایا کہ اس قانون کے تحت تمام غیر ملکی سیکورٹی کمپنیاں عراق کے قانون کی پابند ہوں گی اور انہیں 2004ء میں امریکہ کے زیر قیادت اتحاد کی عبوری اتھارٹی نے غیر ملکی سیکورٹی کانٹریکٹرز کو جو تحفظ فراہم کیا تھا، وہ منسوخ سمجھا جائے گا۔

 

انہوں نے کہا کہ اس قانون کی باقاعدہ توثیق کے لیے پارلیمنٹ بھیج دیا گیا ہے۔

 

ادھر امریکی حکام نے کہا ہے کہ محکمہ خارجہ نے ایک امریکی سیکورٹی کمپنی بلیک واٹر کا محافظوں کو تحفظ فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا، بشرطیکہ وہ پچھلے ماہ فائرنگ کے واقعے کےبارے میں ہونے والی تحقیقات  میں تعاون کریں، جس میں 17 عراقی شہری ہلاک ہوئے تھے۔

 

بلیک واٹر کے محافظوں پر الزام ہے کہ انہوں نے 16 ستمبر کو بغداد میں فائرنگ کر کے شہریوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ جبکہ سیکورٹی کی کمپنی کا کہنا ہے کہ محافظوں نے اس وقت قانون کے مطابق جوابی فائرنگ کی جب امریکی سفارتی قافلے پر حملہ کیا گیا۔

 

ایف۔بی۔ آئی کے تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیقات اس وقت متاثر ہوئیں جب امریکی محکمہ خارجہ نے محافظوں کو بیان دینے کے سلسلے میں تحفظ فراہم کیا، ہر چند کہ محکمہ خارجہ کو اس کا اختیار حاصل نہیں ہے۔

 

اس کے بعد سے بلیک واٹر کمپنی کے محافظوں نے قانونی چارہ جوئی سے استثنا کے وعدے کو جواز بنا کر امریکی تحقیقی ادارے سے بات کرنے سے انکار کر دیا۔

محکمہ خارجہ کے کانٹریکٹرز ضابطوں کے تحت سفارتی سیکورٹی محافظ اس بات کے پابند ہوتے ہیں کہ وہ تمام طاقت کے استعمال کے تمام واقعات کی اطلاع دیں۔ تاہم ایف بی آئی نے اس مہینے کے اوائل میں تفتیش خود سنبھال لی تھی۔