ملک بھر میں بجلی کی شدید کمی کو پورا کرنے کے لیے نہ صرف طویل لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے بلکہ کئی اسٹیل پلانٹ اور ٹیکسٹائل ملیں بند کردی گئی ہیں، جب کہ فلور ملیں لوڈ شیڈنگ کے سبب کم آٹا پیس رہی ہیں اور ملک میں آٹے کا بحران بھی شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔
واپڈا کے ترجمان نے بتایا ہے کہ اسٹیل پلانٹوں کو بند کرکے بجلی کی بچت کرنے کے ساتھ ساتھ گیس کی عدم فراہمی سے بند ہونے والے پاور پلانٹوں کو ہنگامی بنیادوں پر تیل کی سپلائی کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ اِس کے ساتھ ہی ساتھ، کاروباری مراکز کو بھی آٹھ جنوری سے 25جنوری تک شام ساڑھے چھ بجے سے ساڑھے آٹھ بجے تک بند رکھنے کی تجویز ہے۔
خیال رہے کہ اِس وقت پورا ملک بجلی، گیس کے ساتھ ساتھ آٹے کی کمی پر بھی سراپا احتجاج ہے۔شہری علاقوں میں اگر صورتِ حال ابتر ہے تو دیہی علاقوں میں ابتر ترین ہے۔
اِس صورتِ حال میں بہتری کب تک متوقع ہے اِس حوالے کے جواب میں واپڈا کے ڈائریکٹر جنرل پاور طاہر بشارت چیمہ نے توقع ظاہر کی ہے کہ دس دِن تک حالت بہت بہتر ہو جائے گی اور دسمبر 25والی پوزیشن پر واپس آجائیں گے، جب آدھے آدھے گھنٹےکی لوڈ منیجمنٹ کےدو دورانیے پر عمل کیا جا رہا تھا، جو کہ پھر بھی قابلِ قبول ہو گی۔
چیمہ صاحب کا کہنا تھا کہ تربیلا اور منگلا ڈیموں میں گذشتہ برس کی نسبت اِس سال علی الترتیب 21سے32فی صد پانی کم ہے جِس کی وجہ سے پانی سے محض 150میگاواٹ اوسطاً بجلی پیدا ہو رہی ہے۔ اِس کے ساتھ ہی ساتھ، ملک میں کھپت بڑھنے سے گیس کی شدید قلت ہے اور گیس پر چلنے والے پاور پلانٹ کم ہی چل رہے ہیں جب کہ نجی پاور کمپنیوں کے بہت سے پلانٹ بوجہ مرمت بند پڑے ہیں۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ تین روز قبل جامشورو گرڈکی 500کے۔ وی کی دو لائنیں تخریب کاری کا شکار ہوگئی تھیں اور ملک میں شام پانچ بجے سے نو بجے کے اوقات میں 350میگاواٹ بجلی کی کمی ہوگئی ہے۔
صورتِ حال کتنی خراب ہے اِس سوال کے جواب میں لاہور کے صنعت اور تجارت کے ایوان کے صدر محمد علی میاں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پنجاب میں 90فی صد فیکٹریاں بند پڑی ہیں اور کارکن بے روزگار ہو چکے ہیں، اور جِن تاجروں کے پاس برآمدی آرڈر تھے وہ وقت کی پابندی نہیں کر پائیں گے۔
اُن کا کہنا تھا کہ مقامی صنعتی پیداوار بند ہو چکی ہے جِس کا اثر مقامی مارکیٹ پر پڑے گا اور مندی کا رجحان شدید ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ سوئی گیس بھی بند ہے جِس سے صورتِ حال مزید خراب ہوگئی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ملک کی صنعت اِس بحران کے سبب برسوں میں حاصل کی گئی اپنی صنعتی ترقی کو کھو سکتی ہے۔

