دنیا کے مختلف خطوں کے رنگ اور ان میں لپٹی سولہ فنکاروں کی اسلامی شناخت، اُس نمائش کا خاصہ تھی جو نیو یارک کے علاقے بروکلن کی ایک تاریخی عمارت دی ولیمزبرگ آرٹ اینڈ ہسٹوریکل سنٹر میں منعقد کی گئی۔
فن کے اس مجموعے کو اکٹھا کرنے کا سہرا ترک نژاد عائشہ ترگت کے سر تھا جن کا دعوٰی تھا کہ یہ فن پارے نہ صرف اسلامی دنیا کے تنوع کو رنگوں اور شکلوں میں ڈھال کر پیش کرنے کی کوشش ہے بلکہ گیارہ ستمبر کے واقعات کا رد عمل ہے جنہوں نے مسلمان فنکاروں کو جدید فنون لطیفہ کی طرف رجوع ہونے پر مجبور کیا۔ ان کا کہنا تھا:
’ایک طرف تو امریکی عوام دیکھنا چاہتے تھے کہ یہ فنکار کیا کہتے ہیں تو دوسری طرف خود فنکاروں نے اپنے کام کے ذریعے ان غلط فہمیوں کو رفع کرنے کی کوشش کی جو ذرائع ابلاغ میں عام تھیں۔‘
مذہب، سیاست، جنس، غرض کوئی متنازعہ موضوع ایسا نہیں تھا جو ان فنکاروں کی تخلیقی کاوشوں کی زد میں نہ آیا ہو۔ اکثر فن پارے، حالات حاضرہ پر اپنے خالق کا تجزیہ پیش کرتے نظر آئے۔
مثلًا وہ امریکی جھنڈا جو افغانستان اور ایران جیسی مختلف جگہوں سے جمع کی گئی کپڑے کی پٹیوں سے بنایا گیا ہے اور ان میں سے ہر پٹی ایک کہانی بیان کرتی ہے۔ ایرانی فنکار سارہ رہبر اس جھنڈے کے بارے میں بتاتی ہیں:
’ میں نے ٹی وی پر دیکھا کہ ایک آدمی نے اس طرح کا رومال سر پر باندھ رکھا تھا اور وہ چیخ رہا تھا، رو رہا تھا۔ اُس ایک لمحے میں اُس نے اپنے دو بیٹے، اپنا کاروبار، اور بیوی سب کچھ کھو دیا تھا۔ میں میں نے فیصلہ کیا کہ میں اس کے رومال سے امریکی جھنڈا بناؤں گی۔ کیونکہ میں ان کے آپس کے تعلق اور اس کی تاریخ سے واقف ہوں۔ اور میں چاہتی ہوں کہ امریکی جھنڈا بھی اس تعلق کا اعتراف کرے ۔‘
فن، چاہے مصوری ہو یا موسیقی، اکثر زخموں پر مرہم کا کام بھی کرتا ہے۔ اپنے کام کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کر کے فنکار اپنے دکھوں کا مداوا کرتا ہے۔ ہالہ شُکیر کی بنائی ہوئی تصویر، جس میں خالی کاغذ پر سیاہ داغ پڑے ہیں، ایسے ہی فن کی ایک مثال تھی۔
یہ تصویر انہوں نے لبنان میں ہونے والی جنگ کے فورًا بعد بنائی تھی۔ جنگ کے دوران ہالہ اپنے بچوں کے ہمراہ لبنان میں تھیں اور انہیں اپنے خاندان کو لے کر وہاں سے بھاگنا پڑا تھا۔ اس تصویر کو بناتے وقت ہالہ کو لگا جیسے ’یہ سیاہ داغ میرے جلنے کے نشان ہیں۔ مجھے یہ لگ رہا تھا کہ جیسے میں اپنے جسم سے جلنے کے یہ داغ کاغذ پر منتقل کر رہی ہوں۔‘
پاکستانی فنکار اسما شکوہ کی تخلیق ’دی بی ہائیو‘ یا شہد کی مکھیوں کا چھتّا میں ایک سوامریکی خواتین کے حجابوں کو شہد کی مکھیوں کے چھتے کی طرح ترتیب دیے گئے ڈبوں میں دیوار پر آویزاں کیا گیا ہے۔ یہ اشارہ ہے قران کی اس صورت کی طرف جس میں شہد کی مکھی کا ذکر ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ مکھی انسان کو صحت دیتی ہے اور اس میں انسان کے لیے نشانیاں ہیں۔ شہد کی یہ تمام مکھیاں مونّث ہوتی ہیں۔
اسما شکوہ کے علاوہ بھی چار پاکستانی فنکاروں کا کام اس نمائش میں پیش کیا گیا جن میں طلحہ راٹھور، سحر جلال اور ممتاز حسین کے علاوہ مشہور و معروف امین گل جی کا کام بھی شامل تھا۔


