امریکی صدر بش نے ایک بار پھر ایران کو متنبہ کیا ہے کہ اگر اس نے یورینیم کی افزودگی بند نہ کی تو اسے دنیا میں یک و تنہا کر دیا جائے گا۔
سلووینیا میں یورپی یونین کی سربراہی کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر جارج بش نے ان خطرات کی جانب اشارہ کیا جو ایران کے ایٹمی ہتھیا بنالینے کی صورت میں دنیا کو درپیش ہوں گے۔
صدر بش نے یورپی یونین کے ملکوں کی جانب سے عراق اور افغانستان میں ان کی حمایت پر شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے یورپی یونین کے ملکوں کو ان کوششوں میں حمایت پر بھی شکریہ ادا کیا جو ایران کو اس کی جوہری افرودگی کے پروگرام کو معطل کرنے پر قائل کرنے اور اس انتباہ کے لیے کی گئیں کہ دوسری صورت میں ایران کو الگ تھلگ ہونے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ کانفرنس میں زمبابوے ، دارفر اور برما بھی زیر بحث آئے۔ صدر بش نے یورپی یونین میں ترکی کی شمولیت کی ایک بار پھر وکالت کی۔
سلووینیا کے وزیر اعظم جانیز جانسا نے، جن کے پاس یورپی یونین کی باری سے ملنے والی صدارت ہے، ٹرانس اٹلانٹک شراکت کو ایک مثبت قدم قرار دیا۔ انہوں نے ماحولیاتی تبدیلی جیسے مسائل پر مسلسل اختلافات کی نشان دہی کی لیکن اس بات کی تصدیق کی کہ دونوں فریق اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مل کرکام کرنے کو تیار ہیں۔
مسٹر بش نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی پر کوئی معاہدہ طے پا سکتا ہے۔
صدر بش منگل کے روز بعد میں جرمنی روانہ ہورہے ہیں۔


