اس بات پر ایک صدی سے تحقیق ہو رہی ہے کہ آیا اردو کے مشہور و معروف ناول امراؤ جان ادا کی ہیروئن  امراؤ جان ادا مرزا ہادی رسوا کی تخلیق ہے یا اس کا کوئی حقیقی وجود بھی تھا۔ اب حال میں اس بحث میں اس وقت ایک سنسنی خیز موڑ آ گیا جب بھارتی نقاد اورمحقق پروفیسر قمر رئیس نے رسالہ ’ایوان اردو‘ میں امراؤ جان کی تصویر شائع کی ہے۔

اس تصویر کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ 20 سال قبل حیدر آباد کے ایک نواب کے کتب خانے سے امراؤ جان ادا کے پہلے ایڈیشن کا جو نسخہ ملا تھا اس کی جلد میں نہایت خستہ لفافے میں امراؤ جان کی کیمرے سے کھینچی ہوئی تصویر بھی موجود تھی۔ اس کے اوپر نہایت دلکش خط میں لکھا تھا ’ مالکِ کتاب ہٰذا مرزا سیف علی خاں بہادر از لکھنئو طلب نمودہ شد۔‘ دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ اپریل 1899ء میں امراؤ جان ادا کی پہلی اشاعت کے بعد ایک اور کتاب ’ جنون انتظار یعنی فسانہ مرزا رسوا ‘شائع ہوئی تھی اور اس کی مصنفہ امراؤ جان ادا تھی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ کتاب امراؤ جان نے رسوا کے ناول کے جواب میں لکھی تھی۔ اس کے باعث قارئین کا یہ خیال زور پکڑتا گیا کہ امراؤ جان ایک حقیقی کردار تھی۔

شاید رسوا کی کامیابی کا سب سے بڑا راز یہی ہے کہ  ان کے ناول کو بالکل حقیقی سجھا جا رہا ہے۔ اب چاہے انہوں نے حقائق پیش کیے ہوں یا اپنے تخیل کی پرواز سے اس میں حقیقی رنگ بھر دیا ہو، لیکن یہ اٹل حقیقت ہے کہ سو سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود اس ناول پر وقت کی گرد نہیں جم سکی ہے۔ اس ناول کا دنیا کی تمام بڑی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ جن میں انگریزی ، روسی، جاپانی، ترکی اور عربی زبانیں بھی شامل ہیں۔ اس حوالے سے دنیا کے تمام اہل ذوق مرزا رسوا اور ان کے زندہ جاوید کردار امراؤ جان ادا سے واقف ہیں۔ گذشتہ نصف صدی میں اس ناول پر چار فلمیں بن چکی ہیں۔ تین ہندوستان میں اور ایک پاکستان میں۔

ہندوستان میں سب سے پہلے چھٹی دہائی میں اس ناول پر مبنی فلم ’مہندی‘ بنائی گئی تھی۔ بعد میں 1981ء میں مظفرعلی نے فلم امراؤ جان تخلیق کی تھی، جس میں ریکھا کی اداکاری، شہریار کی غزلوں، خیام کی موسیقی اور آشا بھوسلے کی آواز نے وہ جادو پیدا کیا جو آج بھی سر چڑھ کر بولتا ہے۔

 پھر 2006ء میں جے پی دتا نے تیسری فلم امراؤ جان کی بنائی۔ لیکن ایشوریا رائے کے حسنِ بلاخیز کے باوجود یہ فلم مظفر علی کی کاوش کے مقابلے پر انیس ہی رہی۔ پاکستان میں 1972ء میں فلم امراؤ جان ادا بنی اور 2003ء میں رانا شیخ نے پاکستان کے جیو  ٹی وی کے لیے ایک سیریل بنایا۔ اس کی کہانی مشہور شاعرہ زہرا نگاہ نے لکھی تھی۔

’امراؤ جان ادا‘ کا مرکزی کردار امراؤ جان ادا ہے، جو لکھنئو کی مشہور طوائف ہونے کے علاوہ عمدہ  شاعرہ بھی ہے۔ اس ناول پر بنائی جانے والی تقریباً تمام فلموں کا آغاز مشاعرے سے ہی ہوتا ہے، جس میں امراؤ جان ادا اپنی غزل سناتی ہے۔ فلم ”مہندی“کی غزلیں خمار بارہ بنکوی نے لکھی تھیں، جن کے یہ اشعار لوگوں کو آج بھی یاد ہیں:

اپنے کیے پہ کوئی پشیمان ہو گیا
لو اور میری موت کا سامان ہو گیا

اور اس غزل کا مقطع تھا:

یہ بہکی بہکی باتیں بھری بزم میں ادا
یہ آج کیا تجھے ارے نادان ہو گیا

اسی طرح مظفر علی نے اپنی فلم کی غزلیں اور مجرے مشہور شاعر شہر یار سے لکھوائے تھے:

ان آنکھوں کی مستی کے مستانے ہزاروں ہیں
ان آنکھوں سے وابستہ افسانے ہزاروں ہیں

اور

دل چیز کیا ہے آپ میری جان لیجئے
بس ایک بار میرا کہا مان لیجئے
اس انجمن میں آپ کو آنا ہے بار بار
دیوار و در کو غور سے پہچان لیجئے

جے پی دتا نے اپنی فلم کے نغموں کے بول جاوید اختر سے لکھوائے تھے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ ناول میں درجنوں غزلیں موجود ہیں جن میں سے کئی اعلیٰ پائے کی ہیں:

شب فرقت بسر نہیں ہوتی
نہیں ہوتی،سحر نہیں ہو تی
شورِفریاد عرش تک پہنچا
مگر اس کو خبر نہیں ہوتی

ناول میں شامل یہ اشعاربھی بہت مشہور ہوئے تھے:

کعبے میں جا کے بھول گیا راہ دیر کی
ایمان بچ گیا میرے مولا نے خیر کی

کس کو سنائیں حالِ دلِ زار اے ادا
آوارگی میں ہم نے زمانے کی سیر کی
 
سب سے پہلے معروف محقق مسعود حسین رضوی ادیب نے اس موضوع پر بحث شروع کی تھی کہ امراؤ جان ادا ایک حقیقی کردار تھی۔ انہوں نے اپنی کتاب ’لکھنئو کا عوامی اسٹیج‘میں لکھا تھا:

’مراؤ جان کی شخصیت اورنام حقیقی ہے۔ رسوا سے اس کے مراسم رہ چکے تھے، لیکن ناول میں امراؤ جان کے جو واقعات بیان ہوئے ہیں وہ رسوا کے تخیل کی پیداوار ہیں، یا ممکن ہے ان میں سے کچھ کا تعلق امراؤ جان، کچھ کا دوسری طوائفوں سے ہواو رکچھ رسوا کے سوچے ہوئے ہوں۔‘

مسعور حسین رضوی ادیب کے بعد ان کے نامور صاحبزادے ڈاکٹر نیر مسعود نے بھی اس بحث کو آگے بڑھایا اور اس موضوع پر کئی مضامین لکھے، جن میں انہوں نے اپنے والد مرحوم کی بتائی ہوئی باتوں کے حوالے دیے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر منظر حسین کاظمی نے لکھا ہے کہ 1952ء میں مسعود حسین رضوی ادیب نے ان کو مرزا رسوا کا ایک خط دکھایا تھا جس میں انہوں نے لکھا تھا:
 
’آپ نے امراؤ جان کی حقیقت معلوم کی ہے، تو اتنا جان لیجیئے کہ امراؤ جان طوائف تھی، میں گانے کے شوق میں اس کے کوٹھے پر بھی جاتا تھا، لیکن ادا کوئی نہ تھی۔ رنگ آمیزی کے لیے خود ہی ادا بن بیٹھا۔ اب لوگ تخیل کو حقیقت کا جامہ پہنانے لگیں تو اس میں میرا کیا قصور؟‘

سید جعفر حسین جو مرزا کے لڑکپن کے دوست ہیں ان کے حوالے سے مسعود حسین رضوی ادیب نے لکھا ہے:

’اس دور میں رسوا کئی کئی دن طوائفوں کے کوٹھے پر پڑے رہتے تھے اور زیادہ تر نشے میں چور رہتے تھے اور امراؤ جان ادا میں انہوں نے اس زمانے کے تجربوں اور مشاہدوں سے خوب فائدہ اٹھایا ہے۔‘

اس بحث میں مسعود حسین رضوی ادیب کے دوسرے صاحب زادے اظہر مسعود رضوی نے اب ایک نیا باب جوڑ دیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک حالیہ مضمون (شائع شدہ ایوانِ اردو) میں لکھا ہے :

’انہوں نے 1986ء میں کربلا ئے عظیم اللہ خاں، نزد کربلائے تال کٹورا لکھنئو میں جا کر ایک عجیب و غریب کتبہ نقل کیا تھا۔ یہ شبیہہ روضہ مقدس کے مشرقی دروازے کے سامنے نہر سے متصل لگا ہوا تھا اور تقریباً ایک مربع فٹ کے سنگ مرمر پر بہت خوش خط میں لکھا ہوا تھا۔ کچھ دنوں بعد دیکھا تو وہاں اینٹیں بچھا کر راستہ بنا دیا گیا تھا، جس کے نیچے قبردب گئی اور کتبہ بھی غائب ہو گیا۔

کتبے کو عجیب و غریب اس لیے کہا ہے کہ اس میں فوت ہونے والی کا نام زوجیت، ولدیت نہیں بتائی گئی ہے ، ان کو صرف ’مادرِ امراؤ جان‘ کہا گیا ہے۔ کتبے پریہ سطور درج ہیں:

حیدری شیعہ جو تھیں مادرِ امراؤ جان
جن کے اخلاق کا چرچا بھی ہے شہرت بھی ہے
نان پارے میں تپ آتے ہی ہوئیں محو قضا
سب کو اس بات کا صدمہ بھی ہے حیرت بھی ہے
بس تو ہشتم زر جب وقت سحر قبل نماز
بس یہی روز علالت بھی ہے رحلت بھی ہے
یہ زمین متبرک ہوئی مدفن ان کا
جادہ خلد بھی ہے مہبط رحمت بھی ہے
فاتحہ پڑھ کے تم اے فضل لکھو
ہاں یہ ایک مومنہ پاک کی تربت بھی ہے

1320ھ مطابق 31 اکتوبر 1902ء

اس کے ساتھ ہی اظہر مسعود رضوی یہ انکشاف کرتے ہیں کہ امراؤ جان کی کوئی قبر لکھنئو میں اس لیے نہیں ملتی کہ وہ 1911ء میں کربلا چلی گئی تھی اور غالباً وہیں پیوندِ خاک ہو گئی۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ ناول میں بھی  امراؤ جان رسوا کو بتاتی ہے:
 
’مرزا صاحب میں اس ارادے سے گئی تھی کہ پھر نہ آؤ ں گی ، مگر خدا جانے کیا ہوا تھا کہ لکھنئو سر پرسوار ہو گیا مگر اب کی خدا نے چاہا اور جانا ہو گیا تو پھر نہ آؤ ں گی۔‘
 
اسی بنا پر اظہر مسعود یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ جب وہ 1911ء میں کربلا گئی توواپس نہ آئی اور اسے  وہیں دفن کر دیا گیا۔

اصل حقیقت کچھ بھی ہو، ان تحقیقات سے یہ بحث مزید وسعت اختیار کرے گی کہ امراؤ جان ادا ایک حقیقی کردار ہے یا نہیں اور اس طرح سے اس فسانے کے جانے کتنے افسانے بیان ہو تے رہیں گے۔