بہت سے پوچھیں گے کہ یہ کون صاحب تھے اور مر گئے تو کیا قیامت آ گئی، روز اتنے لوگ مر رہے ہیں ایک رالف صاحب بھی سہی؟
قصور رالف صاحب کا نہیں قصور ہماری زبان اردو کا ہے جس کو رالف صاحب نے اپنی پہلی چاہت بنایا اور مرتے دم تک اس چاہ کا رشتہ نبھاتے رہے۔رالف رسل برطانوی تھے اصلی تے وڈے گورے، وہ 1918ء میں یارک شائر کے ایک گاوں میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم کے ساتھ ہی ان میں اپنے ،لوگوں کے اور دنیا کےبارے میں جاننے کا شعور بیدار ہو گیا اور اسی لڑکپن کے زمانے میں انہوں نے کمیونسٹ نظریات اپنا لیے،کیمبرج میں تعلیم حاصل کی اور 1941ء میں فوج میں بھرتی ہو گئے،1942ء میں رالف فوجی افسر کے طور پر خدمات انجان دینے کےلیے انڈیا بھییج دیے گئے۔
یہاں سے رالف کی زندگی کا نیا باب شروع ہوتا ہے جس میں انہیں پہلی بار اردو کا چسکا لگا جو مرتے دم تک کے لیے ان کا تعارف بن گیا۔رالف رسل اپنی سونح عمری میں لکھتے ہیں:
’اردو انڈین آرمی کی زبان تھی اس لیے سپاہیوں کے ساتھ بات چیت کے لیے اس کا سیکھنا ضروری تھا،لیکن بعد میں، میں نے سوچا کہ اس زبان کے ذریعے سپاہیوں کی بہتر تربیت کی جا سکتی ہے ،میں فوج میں رہتے ہوئے ان سپاہیوں میں سیاسی شعور بیدار کرنا چاہتا تھا، جنہیں بھرتی ہی اسی لیے کیا گیا کہ وہ ’غیر سیاسی‘ تھے۔‘
یوں رالف رسل اور اردو کا ساتھ شروع ہوا،ان کے پہلے استاد ایک پٹھان سپاہی تھے،بعد میں برما کے محاذ پر بھی ایک پٹھان سپاہی محمد نواز ان کو اردو سکھاتے رہے، شاید یہی وجہ تھی کہ رالف کی زبان پر پشتون اردو لہجہ غالب تھا۔رالف رسل کو کامیابی بھی حاصل ہوئی اوروقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کچھ سپاہیوں نے نہ صرف کمیونسٹ پارٹی کے رسالے پڑھنا شروع کر دیے بلکہ چندہ بھی دینے لگے۔
ساڑھے تین سال انڈین آرمی میں گزارنے کے بعد رالف رسل 1945ء میں واپس برطانیہ آ گئے۔برطانیہ واپسی کے بعد رالف صاحب نے باقاعدہ اردو زبان کا مطالعہ شروع کیا، انہوں نے لندن یونیورسٹی سے اردو زبان میں ڈگری حاصل کی ، اردو کے ساتھ رالف رسل نے سنسکرت بھی پڑھی۔1949ء میں انہوں نے ہندو پاک کا سفر کیا جہاں انہوں نے ایک سال علی گڑھ یونیورسٹی اور دیگر جامعات میں اردو ادبیات کی تعلیم حاصل کی ۔
واپس برطانیہ آ کر انہوں نے لندن یونیورسٹی میں اردو پڑھانا شروع کر دی اور یہ کام وہ انیس سو اکیاسی تک کرتے رہے۔رالف رسل نے اپنی زندگی اردو زبان میں تحقیق اور درس و تدریس میں گزاری۔ ان کی تصانیف یہ ہیں:
’تین مغل شاعر‘ جو انہوں نے خورشید الاسلام کے ساتھ مِل کر لکھی تھی۔’غالب: زندگی اور خطوط‘ اور ’اے نیو کورس ان اردو اینڈ سپوکن ہندی‘ شامل ہیں۔رالف رسل نے اپنی سوانح عمری بھی لکھی جس میں انہوں نے اردو سے اپنے تعلق کا ذکر بڑی محبت اور چاہت کے ساتھ کیا ہے۔
رالف صاحب نے لندن یونیورسٹی سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اردو پڑھانے کا سلسلہ جاری رکھا ، وہ مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلبا کو اردو پڑھاتے رہے۔رالف رسل کوئی مشاعرہ باز شاعر یا پی آر والے ادیب نہیں تھے اس لیے ضروری نہیں کہ اردو سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر لوگ ان سے واقف ہوں لیکن وہ اردو زبان کے سچے عاشق تھے ، بابائے اردو مولوی عبدالحق کی طرح برطانیہ میں بابائے اردو ۔ساری عمر اردو کے ساتھ گزار دینے کے بعد رالف رسل 14 ستمبر کو اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے۔



