چند روز قبل ہم نے تاریخ کے مہنگے ترین حادثات کی پہلی قسط پیش کی تھی۔ آج اسی سلسلے کی دوسری قسط حاضر ہے۔ واضح رہے کہ یہ تمام حادثات کسی نہ کسی انسانی غلطی یا غفلت کے باعث پیش آئے۔
5
پائی پر الفا آئل رگ
نقصان کا تخمینہ تین ارب 40 کروڑ ڈالر
سمندر سے تیل اور گیس نکالنے کا ایک بڑا پلیٹ فارم پائی پر الفا آئل رگ میں چھ جولائی 1988ء میں رات دس بجے اچانک آگ بھڑک اٹھی جس نے فوراً ہی پورے پلیٹ فارم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔پھر لگاتار ہونے والے کئی دھماکوں نے پلیٹ فارم کو مکمل طورپر تباہ کردیا۔ اس حادثے میں167 کارکن ہلاک ہوئے اور نقصان کا تخمینہ تین ارب 40 کروڑ ڈالر لگایا گیا۔ اس حادثے کو انسانی جانوں اور مالیاتی اعتبار سے سمندری حادثوں کی تاریخ کا بدترین حادثہ سمجھا جاتاہے۔
1972ء میں چار آئل کمپنیوں نے شمالی سمندر میں تیل او گیس کی تلاش کا لائسنس حاصل کرنے بعد اوپی سی اے ایل کے نام سے مشترکہ منصوبے کے تحت پائی پر الفاآئل رگ کے نام سے سطح سمندر پر تیرتاہوا ایک پلیٹ فارم تعمیر کیا تھا۔ 1976ء میں پائی پر الفا نے ڈھائی لاکھ بیرل روزنہ کی بنیاد پر تیل کی پیدا وار شروع کی جسے128 میل لمبی پائپ لائن کے ذریعے ساحل تک پہنچایا جاتاتھا۔ بعدازاں 1980ءمیں گیس کی پیداوار بھی شروع ہوگئی۔
حادثے کے روز صبح کی شفٹ میں پلیٹ فارم پر نصب ایک کمپریسر پمپ کو معمول کی دیکھ بھال کے لیے بند کرکے مرمت کے لیے اس کا ایک والو اتارا گیا لیکن اس کی مرمت مکمل نہ ہوسکی۔ انجنیئر نے دوسری شفٹ کے لیے کمپریسر نہ چلانے کے بارے میں ایک نوٹ چھوڑ دیا جو کہیں ادھر اُدھر ہوگیا۔ رات کی شفٹ میں دوسرا کمپریسر خراب ہوگیا اور انہوں نے متبادل انتظام کے طور پر لاعلمی میں پہلا کمپریسر چلا دیا، جس نے فوراً ہی آگ پکڑ لی۔ اتفاقیہ طور پر آگ بجھانے کا خود کار نظام بھی بند تھا جس کی وجہ سے آگ پورے پلیٹ فارم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
4
خلائی شٹل چیلنجر کی تباہی
نقصان کا تخمینہ ساڑھے پانچ ارب ڈالر
خلائی شٹل چیلنجر 28 جنوری 1986ءکو فلوریڈا میں واقع ناسا کے زمینی مرکز سے اپنی پرواز کے صرف 73 سیکنڈ کے بعد فضا میں پھٹ کر تباہ ہوگئی۔ اس حادثے میں شٹل میں سوار ساتوں خلاباز ہلاک ہوگئے۔ماہرین کے مطابق شٹل ایک ٹینک سے مائع ایندھن کے اخراج اوراس میں آگ لگنے کی وجہ سے ایک دھماکے میں تباہ ہوئی ۔ چیلنجر کے کچھ حصے اور خلابازوں کا کیبن ایک طویل تلاش کے بعد سمندر کی تہہ سے ملا۔
خلابازوں کی موت ان کے کیبن پر کشش ثقل اور دوسرے دباؤ کے باعث واقع ہوئی ۔ چیلنجر کے حادثے سے ناسا کی خلائی تحقیق کا پروگرام شدید متاثر ہوا۔
حادثے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے مطابق ناسا کے عہدے داروں کو علم تھا کہ خلائی جہاز کے اس حصے کے ڈیزائن میں خرابی موجود تھی جو بعدازاں حادثے کا سبب بنی۔ عہدے داروں نے ماہرین کے اس انتباہ کو بھی نظر انداز کرتے ہوئے مقررہ وقت پر شٹل کی روانگی کا فیصلہ برقرار رکھاتھا کہ شدید سردی کسی ممکنہ حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔
چیلنجر کے حادثے میں ہونے والے نقصان کا اندازہ ساڑھے پانچ ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔
3
آٹل ٹینکر پرسٹیج کا حادثہ
نقصان کا تخمینہ 12 ارب ڈالر
پرسٹیج تیل کی باربرداری میں استعمال کیا جانے والا ایک بڑابحری جہاز تھا جو 13 نومبر 2002 کو سپین کے ساحلی علاقے گالیکا کے قریب ایک طوفان کی لپیٹ میں آکر حادثے کی نذر ہوگیا۔ جہاز پر اس وقت 77 ہزار ٹن خام تیل موجود تھا ۔حادثے کے باعث تیل بہہ نکلنے سے سپین اور فرانس کی ایک ہزار سے زیادہ ساحلی تفریح گاہوں کو شدید نقصان پہنچا اورایک بڑی تعداد میں مچھلیاں اور دوسری سمندری مخلوق ہلاک ہوگئی جس کے مچھلیاں پکڑنے کی صنعت شدید متاثر ہوئی۔ تیل سے ایک وسیع ساحلی اور سمندری علاقہ آلودگی کی نذر ہوگیا اور ماحولیات سے متعلق کئی مسائل نے جنم لیا۔
پرسٹیج ایک یونانی کمپنی کا بحری جہازتھا جس میں 81 ہزار ٹن تیل لے جانے کی گنجائش تھی۔13 نومبر کو حادثے کے وقت پرسٹیج سپین کے علاقے گالیکا کے قریب تھا۔ جہاز میں تیل کے بارہ ٹینک تھے جن میں ایک ٹینک پھٹ گیا۔جہاز کے کپتان نے جہاز ڈوبنے کے خطرے کے پیش نظر سپین کے حکام سے مدد کی درخواست کی مگر انہوں نے مدد کی بجائے جہاز کو ساحل سے دور شمال کی طرف جانے کا حکم دیا۔دوسری جانب فرانس کے حکام نے اپنی بحریہ کو حکم دیا کہ پرسٹیج کو ساحل کے قریب آنے سے روکے۔ دوممالک کی اس رسہ کشی میں جہاز ڈوبنا شروع ہوگیا اور 19 نومبر وہ ٹوٹ کر دو حصوں میں بٹ گیا۔جس سے 2 کروڑ گیلن تیل سمندر میں بکھر گیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے ساحلی علاقوں اور سمندر مچھلیوں ، اور دوسری حیات کو مسلسل دس برس تک متاثر ہونے کا امکان ہے۔
پونٹے ویڈرا اکانومسٹ بورڈ کی رپورٹ کے مطابق تیل کی صفائی پر مجموعی طور پر12 ارب ڈالر کے اخرجات ہوئے۔
2
خلائی شٹل کولمبیا کا حادثہ
نقصان کا تخمینہ 13 ارب ڈالر
خلائی حادثوں کی تاریخ میں خلائی شٹل کولمبیا کے حادثے کو ایک مہنگاترین حادثہ قراردیا گیا ہے۔ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب کولمبیا اپنا مشن مکمل کرنے کے بعد یکم فروری 2003 کو دوبارہ زمین کے مدار میں داخل ہوئی۔یہ کولمبیا کا 28 واں مشن تھاجو 16 جنوری کو سائنسی تحقیق کے لیے روانہ ہواتھا۔حادثے سے چند منٹ پہلے شٹل کا زمینی مرکز سے رابطہ ٹوٹ گیا۔ اس وقت شٹل ساڑھے بارہ ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین کی جانب بڑھ رہی تھی ۔ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق حادثے کی وجہ وہ ایک چھوٹا ساسوراخ بنا جو 16 روز قبل خلائی مشن پر روانگی کے وقت شٹل کے ایک پر پیدا ہوگیاتھا۔ سوراخ کی وجہ ایندھن کے ایک بیرونی ٹینک کا ایک حفاظتی ٹکڑاتھا جو روانگی کے وقت اکھڑ کر پر سے ٹکرا گیا تھا۔مگراسے نظر انداز کردیا گیا۔ زمین پر اترتے وقت شٹل کے انجنوں سے خارج ہونے والی گرم گیس سوراخ کے راستے پروں میں داخل ہوگئی جس سے شٹل کے اندرونی حصے کو نقصان پہنچا اور کئی آلات نے کام چھوڑ دیا۔ چند ہی لمحوں کےبعد شٹل آگ کی لپیٹ میں آگئی اور عملے کے ساتوں ارکان ہلاک ہوگئے۔
کولمبیا نے لگ بھگ 22 برس تک خلائی تحقیق کے لیے خدمات سرانجام دیں اور اس دوران شٹل نے ساڑھے بارہ کروڑ میل سے زیادہ کی پرواز کی۔ کولمبیا کی تیاری پر دو ارب ڈالر سے زیادہ لاگت آئی تھی جو قیمتوں کے موجودہ پیمانے پر ساڑھے چھ ارب ڈالر کے مساوی ہے۔ حادثے کی تحقیقات پر پچاس کروڑ ڈالر خرچ ہوئے۔ امریکن انسٹی ٹیوٹ آف ایروناٹکس کے مطابق دیگر تمام اخراجات شامل کرکے مجموعی طورپر اس حادثے سے 13 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔
1
چرنوبل کے جوہری پلانٹ کا حادثہ
نقصان کا تخمینہ دو کھرب ڈالر
چرنوبل کے جوہری پلانٹ کے حادثے کو جانی اور مالی اعتبار سے انسانی تاریخ کا مہنگاترین حادثہ کہا جاتا ہے۔ اس حادثے کے باعث یوکرین کا پحاس فی صد سے زیادہ علاقہ تابکاری کی لپیٹ میں آگیا جس سے 17 لاکھ سے زیادہ کی صحت پر مضر اثرات پڑے۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق پلانٹ کے قریبی علاقوں سے ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ افراد کو نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔ماہرین کا اندازہ ہے کہ حادثے کے فوراً بعد اور اس کے تابکار اثرات کے نتیجے میں کئی برس بعد تک سرطان اور دوسری موذی بیماریوں میں مبتلا ہوکر ہزاروں افراد لقمہ اجل بن گئے۔یہ حادثہ چونکہ سابق سودیت یونین کے دور میں ہوا تھا اس لیے حقیقی اعدادو شمار سخت پابندیوں کے باعث منظر عام پر نہیں آسکے۔
یوکرین میں قائم چرنوبل کے جوہری پلانٹ کا ری ایکٹر نمبرچار،26 اپریل 1986 کو الصبح ایک دھماکے سے پھٹ گیا۔اس کے بعد مزید دھماکے ہوئے اور ایک بڑے علاقے میں تابکاری پھیل گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے اس تابکاری کی شدت ہیروشما میں پھٹنے والے ایٹم بم سے چار سو گنا زیادہ تھی۔ تابکاری سے بیلاروس کا بھی60 فی صد سے زیادہ علاقہ متاثر ہوا۔
چرنوبل جوہری بجلی گھر کے چار ری ایکٹروں کے ذریعے حادثے کے وقت تک ایک ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جاری تھی جس سے یوکرین کی بجلی کی 10 فی صدضروریات پوری ہوتی تھیں۔حادثے کے روز ری ایکٹر کی معمول کی دیکھ بھال کی جارہی تھی اور اس کے حفاظتی نظام کو ٹیسٹ کیا جارہاتھا۔دن کی شفٹ کے انجنیئر کام مکمل نہیں کرسکے تھے اور اسے رات کی شفٹ پر چھوڑ دیا گیاتھا۔ رات کی شفٹ کے انجنیئر صورت حال کو پوری طرح سمجھ نہ سکے اورٹیسٹ کے لیے جب انہوں نے پلانٹ چلانے کی کوشش کی تو وہ دھماکے سے پھٹ گیا۔
حادثے سے ہونے والے نقصان ، تابکاری پر کنٹرول کرنے، لوگوں کی نقل مکانی اورمتاثریں کو معاوضوں کی ادائیگیوں پر اندازً دوکھرب ڈالر خرچ ہوئے جبکہ پاور پلانٹ میں حفاظتی انتظامات کو بہتر بنانے کے لیے الگ سے دو کھرب ڈالر اٹھے۔ نقصانات کے اعداد وشمار کے باعث ماہرین اس کا شمار انسانی تاریخ کے سب سے مہنگے حادثے کے طورپرکرتے ہیں۔

