قرطبہ سے اگلا مرحلہ اشبیلیہ کا درپیش تھا، جو یہاں سے کوئی ڈیڑھ سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ بس میں ہر مسافر کی اپنی اپنی جگہ مخصوص تھی۔ میں بھی بس میں داخل ہو کر ڈائری میں اپنے تاثرات لکھنے بیٹھ گیا۔ طویل سفر کے بعد آس پاس کے کچھ مسافروں سے جان پہچان ہو گئی تھی۔ کچھ دیر بعد میں نے دیکھا کہ میرے سامنے والی سیٹ پر براجمان برازیلی سیاح خاتون جوزیفائن بڑی حیرت اور اشتیاق سے میری تحریر دیکھ رہی ہے۔ میں نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا تو وہ کہنے لگی کہ مجھے بڑی حیرت ہے کہ کوئی دائیں سے بائیں کیسے لکھ سکتا ہے۔ میں نے پہلی بار کسی کو اس قسم کی تحریر لکھتے دیکھا ہے۔ آخر یہ کون سی زبان ہے؟
میں نے بتایا۔ کہنے لگی کہ معمول کی تحریر کی بجائے دائیں سے بائیں لکھنا تھوڑا غیر فطری اور عجیب سا لگتا ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ غیر فطری تو بائیں سے دائیں لکھنا ہے۔ کیوں کہ زیادہ تر لوگ دائیں ہاتھ سے لکھتے ہیں۔ جب دائیں ہاتھ سے لکھنے والا انگریزی یا بائیں سے دائیں طرف لکھی جانے والی کوئی اور زبان لکھتا ہے تو وہ اپنے ہاتھ کو کاغذ کے دائیں طرف سے بائیں طرف لے کے جاتا ہے، پھر وہاں سے واپس دائیں طرف لے کر آتا ہے۔ جب کہ اس کے مقابلے پر اردو لکھنے والا دائیں طرف ہی سے شروع کرتا ہے، جو ظاہر ہے، زیادہ فطری عمل ہے۔
ابھی اشبیلیہ خاصی دور تھا۔ میں بیٹھا ہوا اس شہرِ قدیم کے بارے میں سوچنے لگا۔ اشبیلیہ، جنوبی سپین کا ثقافتی اور تہذیبی گڑھ۔ فلیمنکو رقص و موسیقی کا مرکز۔ سارہ قوطیہ، ابن العربی، ابنِ رشد اور شاعرِ دل نواز المعتمد کا شہر۔ ابنِ خلدون اسی شہر میں سفیر بن کر آئے تھے اور یہیں سے کولمبس نے نئی دنیا دریافت کرنے کا بیڑا اٹھایا تھا۔
ایسا شہر جس کا دبدبہ آپ کے دل کو دھیرے دھیرے گرفت میں لے لیتا ہے، اور آپ شہر کی حدود میں داخل ہونے سے قبل مرعوبیت کے احساس تلے دبے ہوتے ہیں۔ لیکن ہماری بس جس اشبیلیہ میں داخل ہوئی، وہ بہت صاف ستھرا اور نیا نکور شہر تھا۔ سڑک کے دونوں طرف خوب صورت رہائشی عمارتیں بنی ہوئی تھیں، جن کے نیچے جدید ساز و سامان سے بھری ہوئی دکانیں چمچما رہی تھیں۔ یہ نظارہ میری توقعات سے اس قدر مختلف تھا کہ مجھے گائیڈ ڈان ہوان سے تصدیق کرنا پڑی کہ واقعی یہی اشبیلیہ یا سیویا (Seville) ہے۔
یہاں پر ایک گھپلا یہ ہوا کہ ہمارے ٹور کو دو مختلف ہوٹلوں میں ٹھہرایا گیا۔ انگریزی بولنے والے تمام سیاح دوسرے ہوٹل میں چلے گئے، جب کہ میرے گروپ میں صرف ہسپانوی بولنے والے آئے۔ ڈان ہوان سے گلہ کیا تو وہ کہنے لگا کہ ہوٹلوں کی بکنگ بہت پہلے ہی سے ہو چکی ہے اور اب اس میں کسی قسم کی تبدیلی ممکن نہیں ہے۔
دریائے الکبیر کے دونوں کناروں پر پھیلے ہوئے اس قدیم شہر کا بنیادی رنگ بھورا اور خاکستری ہے کیوں کہ شہر کی اکثر تعمیرات اسی رنگ کی نظر آئیں۔ اشبیلیہ صوبہٴ اندلوسیا (اندلس) کا سب سے بڑا شہر ہے۔ آج سے 12 سو سال پہلے سارہ قوطیہ یہیں سے کشتی میں سوار ہو کر اموی خلیفہ ہشام کے دربار میں عرضی لے کر پہنچی تھی، اس وقت بھی، بلکہ اس سے بھی بہت پہلے، اشبیلیہ تمام علاقے میں ممتاز شہر تھا۔
711ء میں شمالی افریقہ کے گورنر موسیٰ بن نصیر نے اپنے جرنیل طارق بن زیاد کو سات ہزار بربر فوجیوں پر مشتمل دستے کے ساتھ سپین پر چڑھائی کے لیے بھیجا۔ اس کے ٹھیک ایک برس بعد وہ خود بھی 18 ہزار فوجی لے کر سپین کے ساحل پر اترا۔ یہاں اس نے اپنے مقامی راہبروں سے کہا کہ وہ اپنے ماتحت طارقِ بن زیاد کے نقشِ قدم پر چلنا پسند نہیں کرتا، اس لیے اسے کوئی اور راستا دکھایا جائے۔ چناں چہ گاتھک امرا نے کہا کہ ہم جان بوجھ کر طارق کو نسبتاً غیر آباد علاقے سے لے گئے تھے، جب کہ آپ کو ہم ایسے راستے سے لے جائیں گے جہاں ایسا شہر آباد ہے جو شان و شوکت میں اپنی مثال آپ ہے۔
تاریخ دان المقری لکھتا ہے کہ اس وقت اشبیلیہ تمام اندلس میں سب سے اہم شہر تھا۔ گوتھوں کے آنے سے قبل یہ اندلس کا دارالحکومت تھا۔ اگرچہ گوتھ بعد میں اپنا پایہٴ تخت طلیطلہ (تولیدو) لے گئے، تاہم اشبیلیہ بدستور مذہبی مرکز رہا۔
گوتھوں نے موسیٰ بن نصیر سے آسانی سے ہار نہیں مانی اور قلعہ بند ہو کر بیٹھ گئے۔ بالآخر دو مہینوں کے محاصرے کے بعد کہیں جا کر موسیٰ بن نصیر پر اس شہر کے دروازے کھلے۔ مسلمانوں کو شہر پر قبضہ دلانے میں یہودیوں نے اہم کردار ادا کیا تھا، کیوں کہ وہ عیسائیوں کے مظالم سے نالاں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے دور میں یہودیوں نے بہت ترقی کی اور وہ اہم عہدوں پر فائز ہوتے رہے۔
اس شہر کی ایک اور وجہِ شہرت مشہور رومانوی کردار ڈان ہوان ہے۔ ڈان ہوان خواتین کو گرویدہ بنانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔ دنیا کے کئی عظیم تخلیق کاروں نے اس ’مرا مزاج لڑکپن سے عاشقانہ ہے‘ کی زندہ تصویر کے ہوش ربا حالاتِ کو قلم بند کیا ہے۔ انگریزی کے شاعر لارڈ بائرن نے اس پر طویل نظم لکھی، موتسارت نے اسے سمفنی کا موضوع بنایا، جب کہ برنارڈ شا اور پشکن سمیت درجنوں چھوٹے بڑے ادیب و شاعر اس کردار سے متاثر ہوئے۔
اس وقت شام کے سائے گہرے ہو چلے تھے، اس لیے گائیڈ ۔۔۔ اتفاق دیکھیےکہ اس کا نام بھی ڈان ہوان تھا ۔۔۔ کل صبح ملنے کی نوید دے کر رخصت ہو گیا۔ لیکن مجھے ایک اور مہم کا سامنا تھا۔ ہوا یوں کہ واشنگٹن سے چلتے وقت میں اپنے لیپ ٹاپ کا چارجر ساتھ رکھنا بھول گیا تھا۔ تھوڑا تھوڑا کر کے کچھ دن تو کام چلایا لیکن اب اس کی بیٹری بالکل جواب دے چکی تھی۔ میں نے راستے میں ایک الیکٹرانکس کی دکان کا بورڈ دیکھا تھا، چناں ہوٹل کے کمرے میں سامان رکھ کر فوراً باہر نکل آیا۔
میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ ہسپانوی زبان کے معاملے میں بہت کٹر ہیں، اور اکثر لوگ انگریزی سے بالکل نابلد ہیں۔ اب ملاحظہ کیجیے کہ کمپیوٹروں کی دکان پر بیٹھے ہوئے نوجوان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ ’لیپ ٹاپ‘کس چڑیا کو کہتے ہیں۔ جب جدید حروفِ تہجی ایجاد نہیں ہوئے تھے تو مصر اور بابل میں تصویری رسم الخط رائج تھا۔ جس چیز کا ذکر کرنا ہوتا تھا، اس کا نام لکھنے کی بجائے تصویر بنا دی جاتی تھی۔ چناں چہ میں نے بھی اس قدیم روایت کا احیا کرتے ہوئے کاغذ پر لیپ ٹاپ کا نقشہ کھینچا، پھر اس کی تار اور اور چارجر بنائے اور آخر میں بیٹری بنا کر اس کے اندر چارج کی قلیل مقدار بھی بجلی کی علامت سے ظاہر کر دی۔
لیکن وہ نوجوان مجھ سے دو ہاتھ آگے نکلا۔ اس نے اس دقیانوسی طرزِ ابلا غ پر اکتفا کرنے کی بجائے جدید ٹیکنالوجی کو ترجیح دی اور اپنے کمپیوٹر پر ہسپانوی زبان میں ایک فقرہ ٹائپ کیا اور پھر ایک مشینی مترجم سافٹ ویر کے ذریعے اسے انگریزی میں منتقل کر کے مانیٹر میرے سامنے کر دیا۔ لکھا تھا کہ لیپ ٹاپ کا ماڈل کون سا ہے اور کتنے وولٹ کا چارجر درکار ہے؟ میں نے انگریزی میں ٹائپ کیا تو سافٹ ویر نے اسے ہسپانوی میں ترجمہ کر دیا۔ لیکن افسوس کہ ہمارے ان ذولسانی مذاکرات کا نتیجہ مثبت نہ نکل سکا کیوں اس کی اطلاع کے مطابق اس کی دکان تو کجا، پورے اشبیلیہ میں اس قسم کا چارجر ملنے کا امکان نہیں تھا۔
اس مہم سے بے نیلِ مرام واپس ہوا۔ ہوٹل نسبتاً اونچائی پر بنا تھا، جہاں سے شہر کی دور تک پھیلی ہوئی روشنیاں نظر آرہی تھیں۔ مئی کا مہینا تھا اور اگرچہ گرمی اتنی زیادہ نہیں تھی لیکن فضا پر حبس چھایا ہوا تھا۔ ابھی خواہش تو تھی کہ ذرا شہر کا ایک چکر لگایا جائے لیکن تمام دن کے سفر کے بعد اپنی بیٹری بھی ڈاؤن ہونے کے قریب تھی، اس لیے واپس اپنے کمرے کا رخ کیا۔
اگلے دن سب سے پہلی منزل ہیرالدا تھی۔ یہ اشبیلیہ میں مسلمانوں کی سب سے اہم مسجد کا مینا ر ہے۔ بلکہ یوں کہیئے کہ اس شہر میں موجود سینکڑوں مساجد کی یہ واحد نشانی بچی ہے۔ یہ مینار ایک بہت بڑی مسجد کا حصہ تھا جسے افریقہ سے آنے والے الموحد حکمران ابو یعقوب یوسف نے تعمیر کروایا تھا۔ ہیرالدا اپنے زمانے میں دنیا کا بلند ترین مینار تھا۔ عام طور پر سمجھاجاتا ہے کہ الموحد طالبان قسم کے حکمران تھے اور انھیں آرٹ سے کوئی شغف نہیں تھا، لیکن سلسلے وار محرابوں اوراینٹوں سے بنائے گئے نقوش و نگار سے مزین ہیرالدا کا پروقار حسن کچھ اور ہی کہانی سناتا ہے۔
جب 1248ء میں فرڈیننڈ ثالث نے اشبیلیہ فتح کر لیا تو حسبِ دستور مسجد کو گرجا بنا دیا گیا اور اس کے مینار پر گھنٹیاں نصب کر دی گئیں۔ 1365ء میں مسجد زلزلے میں تباہ ہو گئی تو اس کی جگہ پر عیسائیوں نے ایک عظیم الشان کلیسا کا ڈول ڈالا جس میں بڑی حد تک مسجد کے نقشے سےاستفادہ کیا گیا۔ اس عظیم الشان عمارت کی تعمیر ایک صدی سے زیادہ عرصے تک جاری رہی۔ اس کے معماروں کے جوش و خروش کا یہ عالم تھا کہ وہ کہتے تھے کہ ہم ایسی عمارت بنائیں گے جسے دیکھ کر دنیا کہے گی کہ اس کے بنانے والے پاگل تھے۔ اٹلی میں ویٹیکن اور لندن میں سینٹ پیٹرز کے بعد یہ دنیا میں تیسرا سب سے بڑا کلیسا ہے۔
اب ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ اس کلیسا کے معمار پاگل تھے یا نہیں، لیکن واقعی یہ عمارت جاہ و جلال سے لب ریز نظر آتی ہے۔ چھوٹے چھوٹے میناروں، چھجوں اور محرابوں کے جنگل کے بیچوں بیچ گہرے بھورے رنگ کا مساجد کی طرز کا گنبد مسلم اثر کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
مسلم طرزِ تعمیر کے اثر کا ذکر ہو تو اسی کلیسا کے بالکل سامنے الکاسار ہے، جو عربی لفظ ’القصر‘ یعنی محل کی ہسپانوی شکل ہے۔ سرکاری طور پر یہ اب بھی شاہی محل ہے اور اگر سپین کا شاہی خاندان کبھی اشبیلیہ آئےتو یہیں قیام کرتا ہے۔
محل کے اندر داخل ہوں تو ایسا لگتا ہے جیسے الحمرا پہنچ گئے ہیں۔ میں نے اس وقت تک غرناطہ کا مشہور محل الحمرا نہیں دیکھا تھا، البتہ اس کی تصاویر ضرور ذہن میں محفوظ تھیں۔ محل کا بڑا حصہ پیڈرو ظالم (Pedro the Cruel) کے دور میں تعمیر ہوا تھا۔ اس نے خاص طور پر مسلم غرناطہ سے مرصع کار منگوائے تھے۔ چناں چہ القصر کی دیواریں الحمرا ہی کا نقشہ پیش کرتی ہیں۔ حتیٰ کہ جگہ جگہ مربع کوفی تحریر میں عربی عبارات بھی لکھی نظر آتی ہیں، جن میں بادشاہ کو سلطان لکھا گیا ہے۔ وہ عمارات جو مسلمان معماروں نے عیسائی حکمرانی میں بنائی تھیں، ان کے طرزِ تعمیر کو مودیخر (Mudejar) کہا جاتا ہے، جو عربی لفظ ’المتاخر‘ یعنی ’پیچھے رہ جانے والے‘ کی بگڑی ہوئی شکل ہے، اور یہ ایسے مسلمانوں کو کہا جاتا تھا جوعیسائی ریاستوں میں رہ گئے ہوں۔
کئی گھنٹے الکاسار میں گزارنے کے بعد گائیڈ ہمیں آس پاس کی گلیوں میں لے گیا، جن کا بیشتر حصہ خاصا پرانا ہے، اور وہاں گھروں کے اندر مسلم دور کی طرز کے باغ بنے ہوئے ہیں۔ ایک تنگ گلی سے گزرتے ہوئے میں ایک کیفے کا نام دیکھ کر ٹھٹک گیا۔ ’اعتماد باراینڈ کیفے ٹیریا۔‘
چونکنے کی وجہ یہ تھی کہ اعتماد ایک حسین و جمیل خاتون کا نام تھا جو اس رومان انگیز شہر کی تاریخ کے ایک اور رومانوی باب سے تعلق رکھتی ہے۔ اسی کے نام ’اعتماد‘ کی وجہ سے اشبیلیہ کے باجبروت بادشاہ اور عربی کے سرکردہ شاعر محمد ابن عباد نے اپنا نام تبدیل کر کے المعتمد رکھ لیا تھا۔ وہی المعتمد، جس کی ایک نظم کا ترجمہ علامہ اقبال نے ’قید خانے میں معتمد کی فریاد‘ کے نام سے کیا ہے، اور جس کی زندگی بلندی و پستی کا عجیب و غریب مرقع ہے۔
اس بلندی و پستی کا احوال اگلی قسط میں خود المعتمد کی زبانی پیش کیا جائے گا۔


