گزشتہ دو ہفتوں کے دوران امریکہ نے صوبہ سرحد میں لڑائی سے متاثرہ خاندانوں کے لیے 20 کروڑ ڈالر کی اضافی امداد دینے کا اعلان کیا ہے اور امریکی حکام کی طرف سے ان بے گھر افراد کے لیے قائم کیمپوں میں فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لینے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ بدھ کو امریکی سفیر این پیڑسن نے اس سلسلے میں صوابی میں ایک ایسے ہی کیمپ کا دورہ کیا اور وہاں زیر تعلیم پانچ سو سے زائد بچوں میں اُن کی تعلیم سے متعلق امدادی سامان تقسیم کیا۔

این پیڑسن نے اس موقع پراپنے ملک کی طرف سے لڑائی کے باعث نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی اعانت کا سلسلہ جاری رکھنے کے عزم کو دوہراتے ہوئے کہا کہ صورت حال کے مطابق امریکہ ان افراد کے لیے مزید امداد فراہم کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔امریکہ ضلع صوابی کے سکولوں اور مقامی آبادی کے ساتھ رہنے والے بے گھر افرادکے لیے ادویات اور خوراک کی فراہمی سمیت مختلف منصوبوں میں تعاون کررہا ہے۔

خیال رہے کہ رواں سال مئی کے اوائل سے مالاکنڈ ڈویژن بشمول سوات میں فوجی آپریشن کے آغاز کے بعدنقل مکانی کرنے والے تقریباً20 لاکھ افراد کی امدد کے لیے اقوام متحدہ نے عالمی برادری سے تقریباً54 کروڑ ڈالر کی اپیل کی تھی جس کے جواب میں اب تک مختلف ممالک کی طرف سے اعلان کردہ امداد میں سے سب سے زیاد ہ حصہ امریکہ کا ہے جس نے 31 کروڑ ڈالر فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔