‘سرود’ کے بے تاج بادشاہ، استاد علی اکبر خان  ایک طویل عرصے تک موسیقی کی خدمت کرنے اور شغف رکھنے والوں کے  دلوں پر راج کرنے کے بعد 18 جون کوامریکہ  کے شہرسان فرانسسکو میں 87 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔  اُنھوں نے  لاکھوںٕ مداح سوگوار چھوڑے ہیں۔

Ustad Ali Akbar Khan

استاد علی اکبر خان 1922ء میں بنگال میں کومیلا شہر کے قصبے  شبھ پور میں پیدا ہوئے۔   موسیقی کی تعلیم اپنے والد استاد علاٴالدین خان سے حاصل کی۔  اُس وقت روی شنکر بھی اُن کے والد کے شاگرد تھے۔ 

موسیقی میں ان کر تربیت ‘سنیہ میہار گھرانے ’ میں ہوئی۔   وہ بائیس برس کی عمر میں ریاست جودھپور میں شاہی موسیقاربنے اوربھارت چھوڑ کر 1967ء میں امریکی ریاست کیلی فورنیا میں آکر آباد ہوئے جہاں برکلے میں  اُنھوں نے ایک بلند پائے کا  علی اکبر کالج آف میوزک قائم کیا، جس  میں اُن کے شاگردوں کی  تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی۔

سرود کے علاوہ استاد علی اکبر خان ستار، طبلہ اور ڈرم بجاتے تھے اور ‘سُر بہار’ پیش کرنے  میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے تھے۔   اُنھوں نے بھارت کے علاوہ دنیا بھر میں اپنے فن کا لوہا منوایا۔  

1989ء میں اُن کو بھارت کا دوسرا بڑا شہری تمغہ، پدما وِبھوشن عطا کیا گیا، جب کہ 1997ء میں امریکہ میں روایتی فنون  کی  اہم ترین  قومی‘ ہیریٹیج فیلوشپ’  دی گئی۔  1991ء میں مک آرتھے جینس گرانٹ ملی اور پانچ مرتبہ گرامی ایوارڈز کے لیے نامزد کیے گئے۔

اُنھوں نےسرود کی تعلیم اپنے والد سے اور طبلے کی تربیت اپنے چچا فقیر آفتاب الدین سے  حاصل کی۔

استاد علی اکبر خان نے تیرہ برس کی عمر میں پہلی بار  الہ آباد میں موسیقی کی محفل میں اپنے جوہر دکھائے۔ انیسویں صدی عیسوی کے دوسری دہائی کے اواخر میں اُنھوں نے لکھنو میں ایچ ایم وِی  کی ریکارڈنگ کی، دوسرے ہی سال  جودھپور کے مہاراجہ  کے شاہی موسیقار بن گئے، اور وہیں موسیقی کے میدان میں  خدمات کے اعتراف میں اُنھیں‘ استاد’ کا لقب دیا  گیا۔

اُن کے شاگرد بتاتے ہیں کہ یہ اُنہی  کا طرہٴ امتیاز تھا کہ  سرود کےمحض  چند تار چھیڑ کر بھی  دل موہ لینے  والی موسیقی تخلیق کرلیتے تھے۔   اُن کو آلاپ اور جود  کی راگنی میں کمال درجے دسترس تھی اور گت اور جھالا میں سحر انگیز موسیقی چھیڑنے کا طلسم آتا تھا۔

اُنھوں نے  روی شنکر، نِکھل بنرجی، ولایت خان، سبرامنیم اور متعدد مغربی موسیقاروں  کے ساتھ جُگل  بندی  کا مظاہرہ  کیا۔  اِس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ استادعلی اکبر خان  نے مغرب میں مشرقی  موسیقی کی داغ بیل ڈالی۔

ماضی کے ایک انٹرویو  میں استاد علی اکبر خان نے بتایا کہ اُنھوں نے اپنے والد سے تعلیم اُس وقت حاصل کی جب  وہ صرف تین سال کے تھے۔   بقول اُن کے:‘‘بالکل اُسی طرح جیسے کوئی بچہ اپنی زبان سیکھتا ہے’’۔

اُنھوں نے بتایا کہ روی شنکر اُن کے والد کے پاس اُس وقت آئے تھے جب خود  اُنھوں نے باقاعدہ سرود بجانا شروع کردیا تھا۔ 

جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیلی فورنیا میں قائم ‘علی اکبر کالج آف میوزک ’میں وہ  کس طرح سے تعلیم دیتے ہیں تو اُنھوں نے بتایا موسیقی اُن کے لیے اوڑھنا بچھونا ہے۔   کالج  میں سات ہزار شاگردوں نے اب تک  موسیقی کی تعلیم لی ہے جِن میں امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے طالبِ علم شامل ہیں۔

استاد علی اکبر خان پہلے انڈین موسیقار تھے جِنھوں نے امریکہ میں اپنا ‘ایل پی’ ریکارڈ جاری کیا۔

مونا شاہ، استاد علی اکبر  کی مداح ہیں۔   تین سال قبل اُن سے ملنے کیلی فورنیا گئیں تھیں۔  اپنی اِس ملاقات کی یادداشتیں بتاتےہوئے  مونا نے کہا کہ وہ خود سِتار بجاتی ہیں اور اُن کے شوہر نے سالگرہ پر تحفہ دینے کے لیے ستار کا انتخاب کیا اور جب سوال آیا خریدنے کا تو دونوں نے سان فرانسسکو کا رُخ کیا جہاں علی اکبر خان انسٹی ٹیوٹ میں  سِتار، طبلے اور موسیقی کا اسٹور بھی  ہے۔  

اُنھوں نے بتایا: ‘ایسا ہوا کہ ہم سان فرانسسکو کے بے ایریا  میں  علی اکبر خان اسکول آف میوزک  گئے اور استاد علی اکبر خان سے ملاقات ہوئی۔   یوں لگا کہ جیسے ہم ایک دوسرے کو مدتوں سے جانتے  ہوں۔‘  ذہن میں سوال گردش کر رہا تھا کہ ہمارا اُن سے کیا رشتہ ہے، سواے موسیقی کے۔   وہ ملاقات میں بھول نہیں سکتی۔  وہ بہت خوش ہوئے اور دیر تک مجھ سے باتیں کرتے رہے۔   ہمیں  گھر لے گئے اور اپنے خاندان سےملوایا۔   وہ ہمیں کلاسوں  میں لے گئے  جہاں  مجھے بٹھایا۔  میں نے سِتار  سنایا۔  میں گھبرا سی رہی تھی کہ استاد کے سامنے کیسے بجا سکوں گی۔   یہ میرے لیے عمر بھر کا تاثر چھوڑنے والا لمحہ تھا۔   میں اُسے کبھی بھول نہیں سکتی۔ ’

مونا شاہ نے کہا کہ وہ نہ صرف ایک لاثانی موسیقار تھے بلکہ ساتھ ہی ایک اچھے انسان بھی تھے جو ہم سے بچھڑ گئے۔ اُنھوں نے اپنے موسیقی کے علم کو پیسے کمانے کی خاطر نہیں بلکہ موسیقی کی خدمت کے لیے استعمال کیا۔

موسیقی کا ایک اور بہت بڑا نام استاد امرت خان  ہیں۔   جب اُن سے رابطہ کیا  تو اُنھوں نے سوگوار انداز میں استاد علی اکبر خان کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

اُنھوں نے بتایا کہ دس بارہ سال کی عمر میں اُن کی ملاقات استاد علی اکبر خان سے ہوئی، جب  سبرین میوزک سرکل ممبئی  میں اُن کا ‘کنسرٹ’ تھا۔

‘مجھے یاد ہے کہ سارا ہال کھچا کچھ بھرا ہوا تھا۔  استاد درباری  پیش کر رہے تھے۔  وہ سُر تال میرے دل میں ایک نقش کی طرح سما گیا۔  وہی میرا سرمایہ ہے۔  وہ اتنی دلربا شخصیت کے مالک تھے کہ اُن کے لیے سوائے محبت اور پیار کے گویا کچھ یاد ہی نہیں۔’

اُن کے خیال میں یہ استاد علی اکبرخان  کا  کمال تھا کہ موسیقی کی مدد سے مشرق و مغرب آپس میں مل سے گئے، ‘اُنھوں نے مغربی دنیا  کے تمام موسیقاروں کے لیے مشرقی موسیقی  کے دروازے کھول دیے اور آخری دم تک موسیقی کی خدمت کی۔’


استاد علی اکبر خان کے انتقال کے بعد اُن کے بیٹے عالم خان نے18جون  کووائس آف امریکہ کے ایتھنو میوزکولوجسٹ،  ڈاکٹر برائن سلور کو ایک اِی میل بھیجا جس میں اُنھوں نے لکھا: ‘سترہ جون کو یہاں گھر میں اُن کے شاگرد اور خاندان جمع تھا جب بابا نے کہا: ہارمونیم لاؤ۔ ہم سب حیران رہ گئے۔  ہم چاہتے تھے وہ آرام کریں۔  لیکن اُن کے اصرار پر ہم ہارمونیم لے آئے۔  اُن کا سب سے چھوٹا شاگرد جِنھیں اُنھوں نے بچپن سے موسیقی کی تعلیم دی تھی اُن سے کہا کہ وہ ‘سا’ پر اُنگلی رکھے۔  فوراً ہی بابا نے راگ  ‘دُرگا’ گانا شروع کردیا۔ اُنھوں نے تیس منٹ تک ہمیں سکھایا۔  کمرے میں موجود تمام لوگ گا رہے تھے اور ساتھ ساتھ رو بھی رہے تھے۔  وہ میری زندگی کا ایسا لمحہ تھا جِسے میں کبھی بھی نہیں بھول سکتا۔  مجھے ایسا لگا کہ میں اُس کہانی کا ایک کردار ہوں جو ہم پُرانے زمانے کے ‘لیجنڈز’ کے بارے میں پڑھا کرتے تھے۔  یعنی اُس وقت جب وہ بسترِ مرگ  پر تھے اور اپنا سر بھی نہیں اُٹھا سکتے تھے، ہمارے بابا، ہمارے گُرو اُس وقت بھی ہمیں سبق دے رہے تھے اور خوبصورت موسیقی ہمیں سکھا رہے تھے۔ اللہ اُن کی مغفرت کرے۔’