واشنگٹن میں اس ہفتے 43ویں سمتھ سونین  فوک لائف فیسٹیول کا افتتاح ہوا۔  ایک اندازے کے مطابق اس دس روزہ فیسٹیول میں دس لاکھ سے زیادہ  افراد کی شرکت متوقع ہے۔  یہ فیسٹول واشنگن کے نیشنل مال میں منعقد کیا گیا ہے۔

اس میلے کا آغاز میکسیکو گروپ سن ڈی میڈرا کی پرفارمنس سے ہوا۔  اس سال میلے میں افریقن امریکن کلچر، لاطینی امریکی موسیقی اور ویلز کے کلچر کو نمایاں کیا جا رہا ہے۔  یہی وجہ ہے کہ میلے کی افتتاحی تقریب ان تینوں کا امتزاج تھی۔  گلوکارہ شارلٹ بلیک ایلسٹون کا گانا افریقن امریکن کلچر کی ترجمانی کر رہا تھا۔  

اس سال اس میلے میں کولمبیا،ڈومینین ری پبلک، میکسیکو، امریکہ اور وینز ویلاکے ثقافتی طائفے شرکت کر رہے ہیں۔  

اس میلے  میں ویلز کی ثفاقت اور موسیقی کو بھی اجاگر کیا گیا۔  

سمتھ سونین انسٹی ٹیوشن  کی ترجمان کا کہنا ہے کہ اس میلے میں دو سو سے زیادہ  فنکار اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔  

ان کا کہنا ہے کہ اس میلے میں کیا نہیں ہے۔  یہ مختلف رنگوں سے سجا ایک دلچسپ میلہ ہے جس میں موسیقی ہے، رقص ہے، کھانے ہیں اور کہانیاں ہیں۔  

ٹونی براؤن فوک لائف فیسٹیول کے پرانے مداح ہیں۔  وہ کہتے ہیں کہ میں یہاں ہر سال آتا ہوں۔  اس میلے کی ہر چیز مجھے بہت پسند ہے۔  

ثقافت کی بات کھانے پینے کے بغیر نامکمل تصور کی جاتی ہے۔  اس سال سمتھ سونین فیسٹیول کی خاصیت بھی مختلف خطوں کے عمدہ کھانے ہیں۔  جبکہ ہر ملک کی ثقافت کو نمایاں کرنے کے لیے مختلف رقص بھی لوگوں کی توجہ کھینچ رہے ہیں۔