گورنمنٹ کالج یونیورسٹی نے اکیس نومبر کو ڈاکٹر سلام کی یاد میں ایک خصوصی اجلاس منعقد کیا۔ ڈاکٹر انعام کا نوبل انعام سرٹیفکیٹ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں موجود ہے جس کو تقریب میں آئےمہمانوں نے بڑی تعداد میں دیکھا۔
فزکس میں نوبل انعام حاصل کرنے والے پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام گورنمنٹ کالج لاھور میں زیر تعلیم رہے اور اس رعایت سے یہ تعلیمی ادارہ اپنے اس فرزند پر فخر کرتا ہے اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی نے اپنے ہاں اس سائنسدان کی یاد میں"سلام چئیر" بھی قائم کررکھی ہے جس پر ڈاکٹر سلام کے اپنے طالبعلم ڈاکٹر غلام مرتضٰی تعینات ہیں۔
اکیس نومبر کو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں ڈاکٹر سلام کی تیرہویں برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے اُنہیں پاکستان میں پیدا ہونے والا بہترین سائنسدان قرار دیا۔ ڈاکٹر غلام مرتضٰی نے اس عظیم سائنسدان کی زندگی کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی دُنیا میں ڈاکٹر سلام نے
Interntaional Centre for Theoretical Physics
قائم کرکے ایک عظیم کارنامہ انجام دیا ہے۔ یہ سنٹر اٹلی کے شہرTrieste
میں قائم ہے اور سائنسی تحقیق کے حوالے سے ایک اہم بین الاقوامی مرکز مانا جاتا ہے۔
ڈاکٹر غلام مرتضٰی نے اس موقع پر بڑی تفصیل سے اُس سائنسی کارنامے پرتبصرہ کیا جو دو دیگر سائنسدانوں کے ہمراہ ڈاکٹر سلام نے طبعیات کی دُنیا میں انجام دیا تھا اور نوبل انعام کے حق دار قرار پائے تھےاور اس کے ساتھ ہی ساتھ اس سائنسدان کی ذاتی زندگی اور کردار پر بھی ڈاکٹر غلام مرتضٰی نے روشنی ڈالی۔
اُنہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر سلام کا احمدیہ جماعت سے تعلق تھا اور اس کے باوجود کہ اُن کے ساتھ پاکستان میں اپنے مذ ہبی عقائد کی وجہ سے امتیازی سلوک ہوا، دس دسمبر اُنیس سو اُناسی کو جب ڈاکٹر سلام نوبل انعام وصول کرنے گئے تو پاکستان کا قومی لباس شیروانی پہنے ہوئے تھے۔
ڈاکٹر غلام مرتضٰی کے بقول نوبل فاونڈیشن کے زیر اہتمام تقریب میں اُن کو مخاطب کرتے ہوئے پہلا جملہ اُردو زبان میں بولا گیا تھا اور وہ جملہ یہ تھا "پاکستان اس کے لیے آپ کا بہت مشکور ہے"۔ ڈاکٹر غلام مرتضٰی نے کہا کہ ڈاکٹر سلام نے اپنی تقریر میں اُردو میں بولے جانے والے اس جملے کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا تھا۔
ڈاکٹر سلام کو نوبل انعام کی سند سویڈن کے بادشاہ نے دی تھی اور یہی سند آج کل گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں موجود ہے۔ برسی کی اس تقریب میں بڑی تعداد میں مہمانوں نے اس سند کو دیکھا۔
ڈاکٹر سلام اُنیس سو اکسٹھ سے اُنیس سو چوہتّر تک سائنسی اُمور پر صدرِ پاکستان کے مشیر رہے۔ وہ ترقی پذیر دُنیا میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے قائم اقوام متحدہ کی کئی کمیٹیوں کے رکن تھے۔
سابق صدر ایوب خان نے اُن کو اُنیس سو اکسٹھ میں نئے قائم کیے گئے ادارے خلائی تحقیقاتی مشن کا چیئرمین بنایا تھا۔ اُنیس سو اُناسی میں ڈاکٹر سلام کو حکومت ِ پاکستان نے نشان امتیاز سے نوازا۔ قبل ازیں اُنیس سو اُنسٹھ میں بھی اُن کو ستارہ پاکستان دیا گیا تھا۔ بین الاقوامی دُنیا میں اُن کو بہت سے اعزازات ملے جن میں نوبل انعام کے علاوہ یونیسکو کی طرف آئن سٹائن میڈل اور انڈیا فزکس ایسوسی ایشن کی طرف سے شری آر ڈی برلا ایوارڈ قابل ذکر ہیں۔
پاکستانی حکومت خراج تحسین کے طور پر ڈاکٹر سلام کی یاد میں دو روپے کایاد گاری ٹکٹ بھی جاری کرچکی ہے۔

