افغانستان سے حال ہی میں واپس آنے والے امریکی سینیٹر جان کیری نے کہا ہے کہ افغانستان میں جو کچھ بھی ہوتا ہے اس کا اثر پاکستان پر پڑے گا۔ پاکستان اس وقت نہ صرف القاعدہ کا گڑھ ہے، بلکہ یہ دنیا بھر میں دہشت گردی کو ہوا دینے والا مرکز بھی بن سکتا ہے۔

پیر کے روز واشنگٹن ڈی سی میں گفتگو کرتے ہوئے جان کیری نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والی جنگ کے نتیجے سے ہمارا گہرا سٹریٹیجک مفاد وابستہ ہے، وہاں کی کمزور جمہوریت ایک ثابت قدم بغاوت کا مقابلہ کر رہی ہے۔ پاکستان کے پاس ایٹمی اسلحہ ہے اور اس کی اپنے پڑوسی کے بھارت کے ساتھ پرانی اور پرتشدد دشمنی ہے۔ اگرچہ افغانستان میں استحکام سے پاکستان کے سارے مسائل حل نہیں ہو جائیں گے، لیکن افغانستان میں عدم استحکام اس کے ہمسایہ پاکستان میں جنگ کے شعلے بھڑکا سکتا ہے اور دنیا اس بات کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

ہمارے سٹریٹیجک مفاد کے توازن کے پیشِ نظر ہمارے فوجی اور غیر فوجی منصوبہ سازوں کو مل کر ہمارے افغانستان اور پاکستان میں ہونے والے حالیہ اخراجات کا موازنہ کرنا چاہیئے جن میں ایک اور تیس کا فرق ہے، حالاں کہ افغانستان میں القاعدہ نہ ہونے کے برابر ہے، جب کہ پاکستان میں القاعدہ موجود ہے۔

یہی وجہ ہے کہ چاہے افغانستان میں جو بھی ہو ۔۔ اور خاص طور پر ایسے حالات میں جب ہم وہاں فوجیوں کی تعداد میں کمی لانا چاہتے ہیں ۔۔ یہ بات انتہائی اہم ہے کہ ہم پاکستان کی امداد اور اس کے ساتھ تعاون کی کوششیں تیز تر کر دیں۔

 جان کیری نے افغانستان میں فوجیوں کی تعداد کے مسئلے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوجیوں میں کمی لانے سے وہاں خانہ جنگی چھڑ سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ چھوٹے پیمانے پر انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں افغانستان میں بڑے پیمانے پر جاری امریکی جنگی مہم کا متبادل نہیں ہیں۔

سینیٹر جان کیری سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں۔ انھوں نے یہ باتیں وائٹ ہاؤس میں وائٹ ہاؤس میں صدر اوباما کی طرف سے جنگی حکمتِ عملی پر کی جانے والی بحث کے دوران کہیں۔

صدر اوباما اور ان کی سیکیورٹی ٹیم اس بات پر غور کر رہی ہے کہ آیا افغانستان میں مزید 40 ہزار فوجی بھیجے جائیں یا نہیں۔

جان کیری نے کہا کہ وہ فوج میں جنرل سٹینلی میک کرسٹل کے مطالبہ کردہ اضافے کی حمایت نہیں کرتے۔ انھوں نے کہا کہ یہ منصوبہ ضرورت سے زیادہ دور تک ضرورت سے زیادہ جلدی جانے کے مترادف ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینٹر جان کیری گذشتہ ہفتے افغانستان سے واپس آئے ہیں، جہاں انھوں نے افغان صدر حامد کرزئی پر زور دیا تھا کہ وہ متنازع صدارتی انتخابات کے اگلے مرحلے کے لیے راضی ہو جائیں۔ کیری نے پاکستان کا بھی دورہ کیا تھا۔