افغانستان میں امریکی فوج نے اُن سینکڑوں قیدیوں کے لیے ایک نئے جیل کی نقاب کشائى کی  ہے، جن کے بارے میں انسانی حقوق کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اُنہیں اُن کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے۔


امریکی فوج نے اتوار کے روز صحافیوں کو اُس جیل کو دیکھنے کی دعوت دی، جسے بگرام کے فضائیہ کے اڈے کی حدود میں چھ کروڑ ڈالر کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ اس جیل کا مقصدشفاف پن میں اضافہ کرنا اور قیدیوں کے رہن سہن کے حالات کو بہتر بنانا ہے، جو صحافیوں کے دورے کے وقت وہاں موجود نہیں تھے۔


امریکی فوج، بگرام کے موجودہ جیل سے لگ بھگ 700 قیدیوں کو نئے جیل میں منتقل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔  اُس کا کہنا ہے کہ نئے جیل میں  ایک ہزار تک لوگوں کی گنجائش ہے۔فوج نے قیدیوں کو “دشمن جنگجوؤں” کی حیثیت سے جیل میں رکھا ہوا۔  اور ان میں کچھ لوگ  پچھلے چھ برس سے قید ہیں۔

انسانی حقوق کے حامیوں کا کہنا ہے کہ امریکی فوج، قیدیوں کو وکیلوں سے رابطے کی اجازت نہیں دیتی۔  اُن کا کہنا ہے کہ  اس قسم کی پالیسیاں، من مانی اور  غیر معیّنہ حراست کے مترادف ہیں۔