ایک ممتاز امدادی ادارے کے زیر اہتمام ایک نئے جائزےسے ظاہر ہوا ہے کہ زیادہ تر افغان غربت، بے روزگاری اور بدعنوانی کو اپنے ملک کی جنگ کی سب سے بڑی وجوہات قرار دیتے ہیں نہ کہ طالبان کو۔

آکسفام برٹش  چیرٹی کے جائزے میں شامل افغانوں میں سے  70 فی صد کا خیال تھا کہ تنازعے کی سب سے بڑی وجوہات غربت اور بے روزگاری ہیں۔ جائزے میں شامل تقریباً نصف نے بدعنوانی اور حکومت کے غیر مؤثر ہونے کو ، جب کہ ایک تہائی نے طالبان شورش کو مورد الزام ٹہررایا۔

یہ جائزہ رپورٹ بدھ کے روز صدر حامد کرزئی کے دوسری صدارتی مدت کے لیے حلف اٹھانے سے ایک روز قبل اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشل کی اس رپورٹ سے ایک روز بعد بدھ کے روز جاری ہوئی جس میں  افغانستان کو دنیا کا بدعنوان ترین ملک قرار دیا گیا ہے۔

صدر کرزئی کو بدعنوانی کے مقابلے کے لیے بین الاقوامی دباؤ میں اضافے کا سامنا رہاہے۔ ان کی حکومت نے پیر کے روز بدعنوان کے انسداد کے لیے ایک یونٹ کے قیام کا اعلان کیا ۔

آکسفام کے ایکزیکٹیو ڈائریکٹر جرمی ہابس نے کہا ہے کہ افغانستان میں تین عشروں کے تنازعے سے ہونے والے نقصان کو راتوں رات پورا نہیں کیا جاسکتا ۔