اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان گی مون اچانک دورے پر پیر کو افغانستان پہنچے ہیں جہاں وہ ہفتے کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے سے قبل پیدا ہونے والی صورتحال پر صدر حامد کرزئی اور دستبردار ہونے والے امیدوار عبداللہ عبداللہ سے بات چیت کریں گے۔
عالمی ادارے کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ان ملاقاتوں میں بان گی مون ان رہنماؤں اور افغان عوام کو ان کے ملک کی ترقی کے لیے اقوام متحدہ کی حمایت کی یقین دہانی کرائیں گے۔
واضح رہے کہ 20اگست کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں بے ضابطگیوں اور دھاندلی کے بعد صدر کرزئی کو ملنے والے ووٹوں کی شرح کم ہونے سے سات نومبر کو انتخابات کے دوسرے مرحلے کا انعقاد ہورہا ہے ۔ تاہم ایک روز قبل صدر کرزئی کے واحد قریبی حریف سابق وزیرخارجہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کی طرف سے انتخابات سے دستبرداری کے اعلان کے بعد ایک نئی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ ڈاکٹر عبداللہ کی دستبرداری کے بعد انتخابی میدان میں صدر کرزئی واحد امیدوار باقی رہ گئے ہیں جن کا کہنا ہے کہ دوسرا مرحلہ ضرور ہوگا لیکن افغان الیکشن کمیشن کے عہدیداروں کے مطابق ملک کے آئین میں ایسی صورتحال کے لیے کوئی واضح ہدایت موجود نہیں اور وہ اس بارے میں آئینی ماہرین سے مشورہ کریں گے۔
اقوام متحدہ کے بیان کے مطابق جنرل سیکریٹری افغانستان میں ادارے کے اہلکاروں اور سکیورٹی کے عہدیداروں سے بھی ملاقات کریں گے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے کابل کے ایک گیسٹ ہاؤس پر طالبان شدت پسندوں کے حملے میں اقوام متحدہ کے چھ اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

