افغانستان میں امریکی فوج کو جدید طرز کی بکتر بند گاڑیاں ملنی شروع ہو گئی ہیں۔ یہ گاڑیاں نسبتاً ہلکی ہیں اور ہر قسم کی سطح زمین پر چل سکتی ہیں۔ ان گاڑیوں پر اتنی مضبوط حفاظتی چادر لگی ہوئی ہے کہ سڑکوں پر لگے ہوئے بم پھٹ جائیں تو بھی  ان میں سوار فوجی محفوظ رہتے ہیں لیکن یہ اتنی بھاری بھی  نہیں ہیں کہ ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر چل نہ سکیں۔
 
یہ رپورٹ ا ن تازہ ترین کوششوں کے بارے میں ہے جو افغانستان میں ہلاک اور زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں کی روز افزوں تعداد کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ یہ وہ وقت ہے جب صدر اوباما  مزید  ہزاروں فوجی افغانستان بھیجنے کے بارے میں غور کر رہے ہیں۔ اس رپورٹ میں بہت سی فوجی اور ٹینکنیکل اصلاحات استعمال کی گئی ہیں۔
 
یہ کام عراق میں کئی سال پہلے شروع ہوا تھا جب باغیوں نے فوج کے استعمال کی گاڑیوں، یا  Humvees کے خلاف گھریلو ساخت کے بم استعمال کرنا شروع کیے تھے۔ سپاہیوں اور میرین فوجیوں کو جلد ہی احساس ہو گیا کہ Humvees ہلکی گاڑیاں ہیں اور بموں کے حملوں سے ان کی حفاظت کرنا ممکن نہیں ہے۔ انھوں نے ان گاڑیوں پر حفاظتی چادر لگانا شروع کردی۔ اس سے کچھ مدد تو ملی لیکن پھر بموں کا سائز اور بڑا ہو گیا۔ آخرِ کار  فوج نے Humvee اور ٹینک دونوں کو مِلا کر ایک نئی  بکتر بند گاڑی تیار کی ۔ اسے MRAP یعنی Mine-Resistant Ambush Protect vehicle کا نام دیا گیا۔ ان گاڑیوں کی بدولت عراق کی سڑکوں پر، سینکڑوں بلکہ ہزاروں جانیں بچا لی گئی ہیں۔
 لیکن محکمۂ دفاع کے اسسٹنٹ سکریٹری اشٹون کارٹر (Ashton Carter) کہتے ہیں کہ یہ MRAP گاڑیاں افغانستان میں اتنی موئثر ثابت نہیں ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’’افغانستان کی سطح زمین اور سڑکوں کی حالت عراق سے مختلف ہے ۔  افغانستان کی سطح زمین زیادہ غیر ہموار ہے  اورسڑکوںپر سفر کرنا دشوار ہے۔ اس وجہ سے ہمیں ایسی MRAP  گاڑی تیار کرنا پڑیں  جو ہر قسم کی سڑکوں اور سطح زمین پر استعمال کی جا سکے۔‘‘
 
فوجی گاڑیاں ڈیزائن کرنے والوں کے سامنے چیلنج یہ تھا کہ ایسی گاڑی بنائی جائے جو MRAP کی طرح محفوظ تو ہولیکن تقریباً 25 فیصد ہلکی ہو۔ پھر ہوا یہ کہ ایک نئی گاڑی M-ATV  یاMRAP-All-Terrain Vehicle تیار کر لی گئی۔ اسسٹنٹ سکریٹری کارٹر کہتے ہیں کہ اس گاڑی سے افغانستان میں زندگیاں بچائی جا سکیں گی  اور امریکی فوج کو افغانستان میں ایسی ہی چیز کی ضرورت ہے جو زندگیاں بچا سکے۔  پہلے افغانستان میں جون تک مہینہ بھر میں 40 سے بھی کم افراد ہلاک ہوتے تھے۔ اس کے بعد سے یہ تعداد 70 تک پہنچ گئی ہے ۔ عہدے دار کہتے ہیں کہ عراق کی طرح افغانستان میں بھی  بیشتر ہلاک ہونے والے لوگ   سڑکوں پر چھپے ہوئے بموں کا شکار ہو جاتے ہیں۔
 
یہ نئی گاڑیاں دیکھنے میں دوسری عالمی جنگ کی بڑی سائز کی جیپوں کی طرح لگتی ہیں لیکن ان میں ایسی کھڑکیاں لگی ہوئی ہیں جن پر دھماکوں کا اثر نہیں ہوتا۔ سب سے اوپر ایک مشین گن لگی ہے جو حملوں سے محفوظ ہے اور اندر اور باہر جدید ترین ٹیکنیکل آلات لگے ہوئے ہیں۔ امریکی فوج تقریباً چھہ ہزار M-ATV بکتر بند گاڑیاں خرید رہی ہے۔ ایک گاڑی کی قیمت  15 لاکھ ڈالر ہے جس میں تمام سازو سامان، فاضل پرزے اور اسے افغانستان پہنچانے کے اخراجات شامل ہیں۔ امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ دوسرے ممالک بھی جن کی فوجیں افغانستان میں لگی ہوئی ہیں، ایسی کچھ گاڑیاں خریدنا چاہتے ہیں۔
 
MRAP اور M-ATV کے پراجیکٹ ڈائرکٹر میرین کور کے بریگیڈیئر جنرل مائیکل بروگانMichael Brogan کہتے ہیں کہ یہ گاڑیاں  سڑکوں کو تباہ کیے بغیر یا سڑکوں پر پھنسے بغیر افغانستان کی سڑکوں پر فوجیوں کی حفاظت کریں گی ۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ان گاڑیوں کی بدولت فوجوں کی نقل و حرکت کا پہلے سے اندازہ لگانا مشکل ہو جائے گا اور یہ تیزی سے ان علاقوں سے دور جا سکیں گی جہاں بم نصب کر دیے گئے ہیں۔ بریگیڈیر جنرل بروگان کا کہنا ہے ’’یہ گاڑی اس طرح ڈیزائن کی گئی ہے کہ ہم سڑکوں کے نیٹ ورک سے دور جا سکتے ہیں، ہم ملک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک سفر کر سکتے ہیں، ان مقامات پر بھی جا سکتے ہیں جہاں بکتر بند Humvees جاتی ہیں اور سڑکوں کے نیٹ ورک پر ہمارے پھنس جانے کا بھی کوئی امکان نہیں ہے۔‘‘
 
وہ کہتے ہیں کہ بعض ٹیکینیکل جدتوں کی وجہ سے، M-ATV بہت زیادہ بھاری نہیں ہیں بلکہ انہیں افغانستان کے ریگزاروں میں بھی، ہلکی بکتر بندHumvees   کی طرح ، ان کی نقل و حرکت آسان ہے ۔
 
سکیورٹی کے پیشِ نظر، عہدے دار یہ بتانا نہیں چاہتے کہ M-ATV کتنے بڑے بم کو برداشت کر سکتی ہے۔ لیکن انہیں امید ہے کہ سینکڑوں اور کچھ دِن بعد ہزاروں ایسی گاڑیوں کی افغانستان میں آمد سے، ہلاک و زخمی ہونے والے امریکیوں کی تعداد بہت کم ہو جائے گی اور فوجی پورے ملک میں بحفاظت سفر کر سکیں گے ۔‘‘